اڈیالہ جیل کی دیواروں کے اندر آج ایک امید کی کرن جگمگائی، جہاں سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی دائیں آنکھ کا تفصیلی طبی معائنہ مکمل ہوا۔ میڈیکل ٹیم نے علاج پر گہرا اطمینان کا اظہار کیا اور واضح الفاظ میں بتایا کہ علاج کے نتیجے میں حالت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ڈاکٹروں کا یقین ہے کہ مکمل صحت یابی کا قوی امکان موجود ہے، جو اس مشکل مرحلے میں ایک بڑی تسلی بخش خبر ہے۔ اتوار کے روز ماہر امراض چشم کی ٹیم نے تقریباً ایک گھنٹے تک عمران خان کا معائنہ کیا۔ یہ ٹیم خصوصی آلات اور ادویات سے لیس تھی، جن میں الشفاء انٹرنیشنل اور دیگر معروف اداروں کے سینئر ڈاکٹرز شامل تھے جیسے ڈاکٹر رفعت، ڈاکٹر سکندر، ڈاکٹر عارف اور دیگر۔ ایمبولینس جیل کے اندر موجود رہی، جہاں تمام ضروری ٹیسٹ اور چیک اپ کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق یہ معائنہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی واضح ہدایات کے بعد ممکن ہوا، جب بانی پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی دائیں آنکھ کی تقریباً 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے۔ ان کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت میں رپورٹ پیش کی تھی، جس میں فوری طبی سہولیات کی درخواست کی گئی۔ عدالت نے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور تفصیلی چیک اپ کا حکم دیا تھا۔ معائنے کے بعد ابتدائی طبی رپورٹ پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کو بھیج دی گئی ہے، جبکہ مکمل رپورٹ تیار ہو کر حکومت کو پیش کی جائے گی۔ ڈاکٹروں نے علاج کے مثبت اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ آنکھ میں بہتری آ رہی ہے اور آئندہ کے مراحل میں مزید پیشرفت متوقع ہے۔







Discussion about this post