پاکستان میں سائبر جرائم کی بڑھتی ہوئی لہر ایک سنجیدہ قومی چیلنج کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں شکایات کی تعداد خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے 80 ہزار سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ وفاقی حکومت نے اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ڈیجیٹل جرائم کے alarming اعداد و شمار نے حکام کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو ایک لاکھ سے زائد شکایات موصول ہو چکی ہیں، تاہم حیران کن طور پر ان میں سے صرف 26 ہزار سے زائد کیسز کی باقاعدہ انکوائری کی جا سکی۔ حکومت کے لیے الیکٹرانک جرائم پر قابو پانا ایک بڑا امتحان بنتا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں اب تک 112,663 سائبر کرائم شکایات درج ہو چکی ہیں، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 108,989 تھی۔ رواں سال موصول ہونے والی شکایات میں سے صرف 26,036 پر تحقیقات مکمل کی جا سکیں، جبکہ 1,955 مقدمات باقاعدہ طور پر درج کیے گئے۔

اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ رواں سال سائبر جرائم میں ملوث 2,445 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے 32 ملزمان کو عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں جبکہ 122 ملزمان بری ہو گئے۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف جرائم کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ تفتیشی نظام پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ صورتحال کے پیش نظر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ملک بھر میں اپنے مراکز کی تعداد 15 سے بڑھا کر 64 کر دی ہے تاکہ شکایات کے ازالے اور فوری کارروائی کے عمل کو مؤثر بنایا جا سکے۔ مزید برآں، تفتیشی افسران کی کمی کو پورا کرنے کے لیے پی سی ون بھی تیار کر لیا گیا ہے اور وزارت داخلہ نے وزیرِاعظم سے این سی سی آئی اے میں نئی بھرتیوں کی منظوری کے لیے باضابطہ درخواست بھی دے دی ہے۔یہ رپورٹ نہ صرف سائبر کرائم کے بڑھتے خطرے کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں تحفظ کے لیے فوری، مضبوط اور منظم اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ اگر بروقت اور سنجیدہ حکمتِ عملی اختیار نہ کی گئی تو یہ خاموش جرم مستقبل میں ایک بڑے قومی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔







Discussion about this post