ٹرمپ انتظامیہ نے ایک بار پھر اپنے فیصلہ کن اور بے باک انداز میں ایک قدم اٹھایا ہے، جب اس نے اسرائیل کو 151 ملین ڈالر مالیت کے بموں کی فروخت کی فوری منظوری دے دی۔ کانگریس کی روایتی منظوری کو نظرانداز کرتے ہوئے، امریکی محکمہ خارجہ نے ہنگامی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کی حفاظت اور علاقائی استحکام کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ یہ معاہدہ اسرائیل کو 12 ہزار BLU-110A/B جنرل پرپس بم باڈیز فراہم کرے گا، جو ایک ہزار پاؤنڈ وزنی طاقتور ہتھیار ہیں۔ اس کے ساتھ تکنیکی معاونت، انجینئرنگ، لاجسٹکس اور متعلقہ پرزے بھی شامل ہیں، جو مجموعی طور پر 151.8 ملین ڈالر کی مالیت کے ہیں۔ یہ بم اسرائیل کی فضائی طاقت کو مزید مضبوط بنائیں گے، خاص طور پر موجودہ علاقائی چیلنجز کے تناظر میں جہاں فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب، امریکی دفاعی صنعت نے ایک زبردست عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اعلان کیا کہ بڑی امریکی دفاعی کمپنیوں نے جدید اور اعلیٰ معیار کے ہتھیاروں کی پیداوار کو چار گنا بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ "ایکسکوائزٹ کلاس” ہتھیاروں کی تیاری میں تیزی لانے کا منصوبہ ہے، جو تیزی سے اعلیٰ سطح تک پہنچنے کے لیے شروع ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کے الفاظ میں، امریکہ کے پاس درمیانی اور اعلیٰ درجے کے ہتھیاروں کا تقریباً لامحدود ذخیرہ موجود ہے، جو ایران جیسے تنازعات میں استعمال ہو رہے ہیں اور جنگ کو کامیابی سے جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔







Discussion about this post