خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسمٰعیل خان کے علاقے درابن میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر ایک بھرپور کارروائی کرتے ہوئے بھارتی پراکسی فتنۂ خوارج کے 7 دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچا دیا۔
یہ آپریشن دشمن کے دلوں میں لرزہ طاری کرگیا، مگر اسی دوران وطن کا ایک اور جرأت مند بیٹا، میجر سبطین حیدر اپنی جان وطن پر قربان کر کے شہادت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوگیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق 8 اکتوبر 2025 کو سیکیورٹی فورسز نے درابن کے عمومی علاقے میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جہاں اطلاعات تھیں کہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے خوارج چھپے ہوئے ہیں۔ جوانوں کی شاندار حکمتِ عملی اور بروقت ایکشن کے نتیجے میں 7 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے، جبکہ ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود بھی برآمد ہوا۔شدید فائرنگ کے تبادلے میں ضلع کوئٹہ کے 30 سالہ میجر سبطین حیدر نے دلیری اور استقامت کی وہ مثال قائم کی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ وہ دشمن کے ناپاک عزائم کے سامنے ڈٹ کر لڑے اور شہادت کا تاج اپنے سر سجایا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے آپریشن میں شاندار کامیابی پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا اور میجر سبطین حیدر کی شہادت کو قوم کا فخر قرار دیا۔صدر زرداری نے کہا کہ “میجر سبطین نے وطن کے دفاع میں اپنی جان قربان کر کے لازوال مثال قائم کی”، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ “ہماری بہادر افواج دن رات ملک کے تحفظ میں مصروف ہیں، اور قوم ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے”۔ گزشتہ روز اورکزئی میں بھی اسی گروہ کے خلاف کارروائی میں لیفٹیننٹ کرنل، میجر اور 11 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 19 دہشت گرد مارے گئے۔گزشتہ ہفتے بنوں کے قریب بھی ایک حملے میں ایک سپاہی نے اپنی جان وطن پر قربان کی۔ نومبر 2022 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ضرور ہوا ہے، مگر قومی عزم اور افواجِ پاکستان کی بہادری نے دشمن کو ہر محاذ پر پسپا کیا ہے۔







Discussion about this post