اسلام آباد میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ برسلز میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کسی قسم کی سیاسی گفتگو نہیں کی اور نہ ہی کسی معافی کا ذکر کیا۔ تقریب میں سیکڑوں افراد شریک تھے جنہوں نے تصاویر بنوائیں، تاہم آرمی چیف کی باتوں کو ذاتی مفاد کے لیے توڑ مروڑ کر انٹرویو کے طور پر پیش کرنا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ جو بھی شخص غیر قانونی عمل کرے گا، اسے قانون کے مطابق جرم کا جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں اعلیٰ پولیس افسران اور دیگر افراد کو شدید نقصان اٹھانا پڑا، جو آج بھی اس کے اثرات بھگت رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان خطے کی تقدیریں بدلنے والا ملک ہے، اسی لیے دشمن قوتیں اس پر بار بار حملہ آور ہوتی ہیں۔ بھارت نے یہ سمجھا کہ حملوں اور دہشت گرد پراکسیز کے ذریعے پاک فوج کو بدنام کیا جا سکتا ہے، لیکن پاکستان اور پاک فوج کے بھرپور جواب نے ان کے تمام عزائم ناکام بنا دیے۔انہوں نے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے ہر محاذ پر دشمن کا مقابلہ کیا۔ ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے 2014 کے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے۔ فی الحال صرف پہلے نکتے پر عمل ہو رہا ہے، جبکہ باقی 13 نکات پر فوری عملدرآمد ضروری ہے تاکہ گورننس کے خلا کو پر کیا جا سکے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے مزید کہا کہ یہ خلا فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی جانوں کی قربانی دے کر پورا کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جرائم میں ملوث غیر قانونی افغان باشندوں کے اخراج پر عمل درآمد ہونا چاہیے، لیکن افسوس کہ ملک کے چند سیاسی اور جرائم پیشہ عناصر اس عمل میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔







Discussion about this post