وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے شکوہ کیا ہے کہ وہ اپنے تمام آئینی و قانونی دروازے کھٹکھٹا چکے، مگر بانیٔ پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ راولپنڈی میں دھرنا ختم کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عدالت کے واضح حکم کے باوجود نہ انہیں اور نہ دیگر رہنماؤں کو عمران خان سے ملنے دیا گیا، جب کہ ماضی میں جو لندن فرار ہو جاتے تھے انہیں پچاس پچاس افراد سے ملاقات کی اجازت ملتی تھی۔ سہیل آفریدی نے بتایا کہ ایک پورا دن، پوری رات اور پھر صبح ہو گئی مگر ملاقات کی اجازت نہ ملی۔ ان کے مطابق وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کریں گے اور انہیں باور کرائیں گے کہ تین ججز کی جانب سے دیے گئے احکامات پر کوئی عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدالتیں اپنے فیصلوں کو پورا نہ کروائیں تو ملک میں جنگل کا قانون چھا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے ملاقات کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں باضابطہ درخواست بھی دائر کر دی ہے۔

دھرنا ختم کرنے کے بعد وہ صبح کے وقت اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے، جہاں گورکھ پور ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب تک انہیں بانی پی ٹی آئی کی خیریت کے بارے میں بھی کچھ نہیں بتایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں کے ساتھ رات وہیں گزاری ہے، اور اگر اپنے قائد کے لیے ساری زندگی بھی باہر بیٹھ کر گزارنی پڑے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے دوٹوک کہا کہ مطالبات کی خاطر احتجاج اور دھرنوں سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر سہیل آفریدی گزشتہ روز گورکھ پور ناکے پر سولہ گھنٹے سے جاری دھرنا ختم کرنے کے بعد اسلام آباد روانہ ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی سے مشاورت کے بعد دھرنا ختم کیا گیا، جب کہ منگل کو دوبارہ اڈیالہ جیل آنے کی تجویز پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ اسی دن کارکنوں کو بھی بڑی تعداد میں آنے کی کال دی جائے گی تاکہ فیملی ملاقات کے موقع پر سیاسی دباؤ بڑھایا جا سکے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کے پی نے دھرنے سے متعلق اپوزیشن اتحاد کو پہلے آگاہ نہیں کیا تھا، اور دھرنے کے چار گھنٹے بعد ان سے رابطہ کر کے معاملے کو سنبھالنے کی درخواست کی گئی۔ سہیل آفریدی کی خواہش تھی کہ دھرنا ختم کرنے کا اعلان اپوزیشن اتحاد کی قیادت خود کرے، تاہم بات چیت کے بعد معاملہ خوش اسلوبی سے نمٹا لیا گیا۔







Discussion about this post