نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جو اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون سے متعلق تھا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلاموفوبیا دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتا ہوا خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ اسحٰق ڈار نے کہا کہ اسلاموفوبیا کے خلاف صرف بیانات کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اقلیتیں دنیا کے مختلف حصوں میں تعصب، نفرت انگیزی اور امتیازی سلوک کا شکار ہیں، اور یہ معاملہ اب مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔اپنے خطاب میں اسحٰق ڈار نے مسئلہ کشمیر پر بھی بات کی اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کو ان کا بنیادی حق، یعنی حق خودارادیت دیا جانا چاہیے، جس کا وعدہ اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں کیا ہوا ہے۔ انہوں نے اس اجلاس کی صدارت کو پاکستان کے لیے ایک اعزاز قرار دیا اور کہا کہ او آئی سی اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون انسانیت کو درپیش بحرانوں کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے او آئی سی کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم نہ صرف کشمیر، بلکہ لیبیا، شام، افغانستان اور یمن جیسے ممالک میں بھی امن کے قیام کے لیے مؤثر کام کر رہی ہے۔ اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان اس بات پر مکمل یقین رکھتا ہے کہ او آئی سی اور اقوام متحدہ کے تعلقات کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جانا چاہیے تاکہ دنیا کے مسائل کا بہتر حل تلاش کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی پیش کردہ ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی، جس میں رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی تنازعات کو پرامن ذرائع جیسے مذاکرات، ثالثی یا عدالتی فیصلوں کے ذریعے حل کریں۔







Discussion about this post