راولپنڈی اور اسلام آباد کے طلبہ اور والدین کے لیے ایک سنہری موقع کی شکل میں ایک شاندار اور معلوماتی کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس نے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولنے کا خوبصورت منظر پیش کیا۔ یہ تقریب نہ صرف علم کی روشنی پھیلانے کا ذریعہ بنی بلکہ ہزاروں نوجوانوں کے خوابوں کو پروں سے نوازنے کا سبب بھی بنی۔ تقریب کا آغاز ایک روحانی رنگ میں ہوا جب معروف نعت خواں ذاکی الدین نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کی خوبصورت ترنم سے محفل کو معطر کر دیا، جس نے حاضرین کے دلوں کو سکون اور ایمان کی تازگی سے بھر دیا۔ نظامت کے فرائض انتہائی خوبصورتی اور پیشہ ورانہ انداز میں مس فرواہ بتول نے نبھائے، جنہوں نے مہمانانِ گرامی اور شرکاء کا پرجوش استقبال کرتے ہوئے بین الاقوامی تعلیم کے عظیم امکانات اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کی گرمجوشی نے پورے ماحول کو جوش و جذبے سے بھر دیا۔

کانفرنس کے دوران سمیع خان نے بین الاقوامی لینگویج سرٹیفکیشن پروگرامز کی اہمیت کو واضح کیا اور بتایا کہ انگریزی زبان پر عبور اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفکیٹس بیرون ملک تعلیم کے سفر میں کس قدر کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ رہنمائی طلبہ کے لیے ایک روشن راہ تھی۔ واجد آفریدی اور کاشف بنگش نے کرغزستان کی جلال آباد یونیورسٹی میں دستیاب تعلیمی مواقع، خاص طور پر میڈیکل اور دیگر شعبوں میں پاکستانی طلبہ کے لیے سہولیات، داخلہ کے آسان راستے اور مستقبل کے روشن امکانات پر تفصیلی روشنی ڈالی، جس نے بہت سے طلبہ کے دل میں نئی امید جگائی۔ راؤ شہزاد نے قبرص اور ازبکستان جیسے ممالک میں تعلیم کے مواقع، ویزا پراسیس، داخلہ کے طریقہ کار اور کیریئر کے امکانات پر مفصل اور عملی رہنمائی پیش کی، جو حاضرین کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوئی۔ ڈاکٹر عمر خالد (دارالثقافت) نے مختلف ممالک کے درمیان تعلیمی اور ثقافتی روابط کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی علمی تبادلہ نہ صرف ذاتی ترقی کا سبب بنتا ہے بلکہ قوموں کے درمیان پل بھی قائم کرتا ہے۔

محمد خالد، بانی و پرنسپل اسٹیپس کالج نے اپنے پرجوش خطاب میں زور دیا کہ مقامی ادارے طلبہ کو عالمی معیار کی تیاری کے لیے پرعزم ہیں اور انہیں بین الاقوامی مواقع سے فائدہ اٹھانے میں مکمل رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔ پروفیسر افضل نے دبئی کے ذریعے فرانس اور یورپی تعلیمی نظام تک رسائی کے مختلف راستوں سے آگاہ کیا، جس نے طلبہ کو نئی سمتوں کی طرف راغب کیا۔ تقریب کے اختتام پر مس افشاں، سی ای او اسٹیپس کالج اور اسٹیپس گلوبل سروسز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں بین الاقوامی تعلیم کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور درست، مستند رہنمائی طلبہ کے مستقبل کو سنوارنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے اس نوعیت کی تقریبات کو طلبہ اور والدین کے لیے ماہرین سے براہ راست رابطے کا بہترین پلیٹ فارم قرار دیا۔ شریک طلبہ، والدین اور تعلیمی ماہرین نے اس اقدام کی دل کی گہرائیوں سے تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسی تقریبات کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ پاکستانی نوجوان عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو منوا سکیں۔یہ کانفرنس محض ایک تقریب نہیں تھی بلکہ ایک انقلاب کی ابتدا تھی، جہاں خواب دیکھنے والوں کو پرواز کے پر عطا کیے گئے اور پاکستان کے نوجوانوں کو عالمی آسمان کی طرف اڑان بھرنے کا موقع ملا۔







Discussion about this post