اسلام آباد کے ترلائی علاقے میں واقع امام بارگاہ کے گیٹ پر خودکش دھماکے نے پورے شہر کو غم اور خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس بھیانک دھماکے کے نتیجے میں 25 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ ہلاکتوں کا بھی شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جو اس واقعے کی شدت اور انسانی جانوں کے ضیاع کی گہرائی کو عیاں کرتا ہے۔ پولیس، ریسکیو 1122 اور ایمرجنسی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، جبکہ آئی جی اسلام آباد نے پورے شہر میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکا جا سکے اور صورتحال پر مکمل قابو پایا جا سکے۔ وفاقی دارالحکومت کے اہم اسپتالوں یعنی پولی کلینک، پی آئی ایم ایس اور سی ڈی اے ہسپتال میں فوری ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جہاں مین ایمرجنسی، آرتھوپیڈک، برن سینٹر اور نیورو ڈیپارٹمنٹس کو الرٹ کر کے مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ دھماکے کی نوعیت، مواد اور طریقہ کار کی گہرائی سے تحقیقات کر رہا ہے، جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر پی آئی ایم ایس، پولی کلینک اور دیگر اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں بروقت طبی امداد دی جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کے مطابق اب تک 10 زخمی افراد کو پی آئی ایم ایس اسپتال پہنچایا جا چکا ہے، اور باقی زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ترجمان ضلعی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ دھماکے کی جگہ کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، جہاں فوری طور پر تفتیش اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ اس سانحے کے ذمہ داروں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔







Discussion about this post