تحریکِ انصاف کے اعلان کے بعد وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں سیاسی سرگرمیاں ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہیں۔ پارٹی نے منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ پیر کے روز جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت کسی بھی قسم کے احتجاج، جلسے یا جلوس کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی غیرقانونی سرگرمی کی صورت میں قانون فوری حرکت میں آئے گا اور متعلقہ افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور کسی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا حصہ نہ بنیں۔راولپنڈی میں ڈپٹی کمشنر حسن وقار چیمہ نے بھی دفعہ 144 کے نفاذ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یکم سے 3 دسمبر تک ضلع بھر میں ہر قسم کے اجتماع، ریلی اور جلسہ جلوس پر پابندی عائد رہے گی۔

اس دوران پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ یہ تمام اقدامات اُس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جو خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حالیہ پریس کانفرنس کے دوران دیا تھا۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ منگل کے روز تمام منتخب ارکان، ایم این ایز، ایم پی ایز اور سینیٹرز پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے کیسز کو فوری طور پر سنا جائے کیونکہ ان کے مطابق انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ سہیل آفریدی نے مزید بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے احتجاج کے بعد تمام پارلیمنٹیرینز اڈیالہ جیل کا رخ کریں گے، جہاں عمران خان کی بہنوں سے اظہارِ یکجہتی کیا جائے گا۔ سیاسی کشیدگی کے اس ماحول میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی صورتِ حال حساس ہو چکی ہے، اور شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون یقینی بنائیں۔







Discussion about this post