اسلام آباد کچہری خودکش حملے کی تحقیقات میں ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک اہم سہولت کار کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتار ملزم نے حملہ آور کو وہ سہولیات فراہم کیں جن کی بدولت یہ ہولناک کارروائی ممکن ہوئی۔ انٹیلیجنس اداروں نے تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے اس درزی کو بھی گرفتار کر لیا ہے جس نے حملے میں استعمال ہونے والی خودکش جیکٹ پر کام کیا تھا۔ تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ جیکٹ پشاور میں تیار کی گئی اور اس کے لیے بارودی مواد بھی وہیں پہنچایا گیا تھا۔ گرفتار سہولت کار یہ جیکٹ گڑ کی بوری میں چھپا کر پشاور سے لایا اور تین دن تک اسے ایک درخت کے نیچے روپوش کیے رکھا۔ مزید یہ کہ چند روز تک یہی جیکٹ ایک ٹیلر کے پاس بھی موجود رہی، اور ذرائع کا کہنا ہے کہ درزی کو بخوبی علم تھا کہ اس جیکٹ کا مقصد ایک خودکش حملے میں استعمال ہونا ہے۔ ذرائع کے مطابق مرکزی سہولت کار کی گرفتاری کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور اس سے اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔ ملزم نے فتنۃ الخوارج سے اپنے روابط کا اعتراف بھی کر لیا ہے، جس کے بعد معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر چکا ہے







Discussion about this post