پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی کی طبی حالت مزید ناساز ہو گئی ہے، جس کے باعث وہ 27ویں آئینی ترمیم پر ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔خاندانی ذرائع کے مطابق عرفان صدیقی کو سانس لینے میں شدید دشواری کے باعث اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں منتقل کیا گیا ہے۔ تاہم اہلخانہ نے ان کے وینٹی لیٹر پر ہونے کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عرفان صدیقی کی موجودہ طبی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آج (پیر) ہونے والے ایوانِ بالا کے اجلاس میں ان کی شرکت ممکن نہیں، جہاں 27ویں آئینی ترمیم پیش کی جائے گی۔دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایوانِ بالا میں اب بھی دو تہائی اکثریت حاصل ہے، اور آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے درکار 64 اراکین کی حمایت موجود ہے۔ذرائع کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم آج سینیٹ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی، جس پر ایوان میں اہم سیاسی بحث اور ووٹنگ متوقع ہے۔ ملک کے علمی و سیاسی حلقوں نے سینیٹر عرفان صدیقی کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔







Discussion about this post