ایک ایسی رات تھی جب آسمان پر موت کے پرندے پرواز کر رہے تھے اور زمین پر خون کی تڑپ اٹھ رہی تھی۔ ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کی شہادت نے پورے ملک کے سینے میں آگ بھڑکا دی۔ وہ ایک ایسے رہنما تھے جن کی قیادت نے مشکل ترین لمحات میں بھی قوم کو متحد رکھا تھا، اور اب ان کا خون زمین پر گرا تو گویا ایران کی روح جاگ اٹھی۔ اس شہادت کا بدلہ لینے کے لیے ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک طوفان برپا کر دیا۔ آپریشن وعدہ صادق 4 کی انیسویں لہر نہیں، بلکہ 61 ویں لہر نے اسرائیل کے دل تل ابیب پر حملہ آور ہو کر تاریخ رقم کر دی۔ سینکڑوں میزائل آسمان کو چیرتے ہوئے گزرے، جن میں کلسٹر وارہیڈز والے بھی شامل تھے جو ایک بار پھٹنے کے بعد موت کی بارش کرتے ہیں۔ ایرانی بیان کے مطابق سو سے زائد فوجی اور سیکیورٹی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، اور یہ حملہ محض جواب نہیں تھا بلکہ عزت اور خودداری کا اعلان تھا۔ تل ابیب کی گلیوں میں آگ کی لپٹیں بلند ہوئیں، گاڑیاں تباہ ہوئیں، عمارتیں لرز اٹھیں اور سائرن کی چیخیں فضا میں گونجنے لگیں۔

اسرائیلی ذرائع نے کم از کم دو جانوں کے ضائع ہونے کی تصدیق کی، جبکہ نقصانات کی لہریں ابھی تک پھیل رہی ہیں۔ یروشلم تک خطرے کی آوازیں پہنچیں، اور پورا علاقہ خوف اور ہنگامے میں ڈوب گیا۔ ایران کا غم اور غصہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ علی لاریجانی کے بیٹے مرتضیٰ بھی اسی حملے میں شہید ہوئے، اور یہ داغ قوم کے دل پر ابھر آیا۔ پاسداران نے دوٹوک اعلان کیا کہ شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ لاریجانی اب صرف ایک نام نہیں، بلکہ ایرانی عزت، مزاحمت اور بیداری کی زندہ علامت بن چکے ہیں۔ ان کی قربانی نے قوم کے حوصلوں کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جن کی خدمات نے خطے کی تاریخ بدل دی۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی واضح کیا کہ امریکہ کے علاقائی اڈے اب جائز ہدف ہیں۔ اسی دوران ایران نے اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کر دیا؛ متحدہ عرب امارات میں ڈرون کارروائیاں ہوئیں، بغداد کے قریب امریکی سفارتی مرکز پر بھی نشانہ سازی کی گئی۔







Discussion about this post