ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ (IRGC) نے ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن کر دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے، جہاں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری بیڑے کے سب سے طاقتور ہتھیار، ایئر کرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن کو جدید میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جس سے اسے شدید نقصان پہنچا اور یہ بحیرہ عمان سے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق یہ کارروائی بحیرہ عمان میں ایران کی سمندری حدود سے تقریباً 340 کلومیٹر کے فاصلے پر کی گئی، جہاں امریکی کیریئر کو بالسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور جدید ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ IRGC کا کہنا ہے کہ یہ حملہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی ایک نئی لہر کا حصہ تھا، جو القدس کے شہداء کی یاد میں داغی گئی اور اسے شدید دھماکوں اور مسلسل حملوں سے انجام دیا گیا۔
اس دوران پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آج دنیا یوم القدس کے طور پر مختلف طریقوں سے مشاہدہ کرے گی، اور القدس کی آزادی اب قریب تر ہے۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ فتح مظلوموں اور آزادی کے متلاشیوں کی دسترس میں ہے، اور یہ عزم اسرائیلی اور امریکی اہداف کے خلاف جاری رہے گا۔
IRGC نے مزید کہا کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 44 ویں لہر آج صبح القدس کے شہداء کی یاد میں شروع کی گئی، جبکہ پانچواں امریکی بحری بیڑہ اور علاقائی امریکی اڈوں کو بابرکت رمضان المبارک کی تئیسویں صبح نشانہ بنایا گیا۔ یہ مسلسل اور جامع آپریشن ہے جس میں میزائلوں اور ڈرونز سے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔دوسری جانب، امریکی فوجی طیارہ مغربی عراق میں گر کر تباہ ہو گیا، جسے امریکا نے آپریشن کے دوران ایک حادثہ قرار دیا ہے، جبکہ ایران کی طرف سے اسے اپنے دفاع کی کامیابی سے جوڑا جا رہا ہے۔یہ دعوے اور بیانات خطے میں جاری کشیدگی کی شدت کو عیاں کرتے ہیں، جہاں ایران اپنے دفاع، شہداء کے خون کا بدلہ اور القدس کی آزادی کے لیے ناقابل شکست عزم کا اعلان کر رہا ہے۔







Discussion about this post