ایک نازک اور انتہائی حساس لمحے میں، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے قوم سے ایک پراثر خطاب کیا، جس میں انہوں نے خطے کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر روشنی ڈالی اور ایک واضح پیغام دیا جو امن کی طرف ایک اہم قدم کی مانند ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عبوری قیادت کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران پڑوسی ممالک پر اس وقت تک کوئی حملہ نہیں کرے گا جب تک کہ ان ممالک کی سرزمین سے ایران پر کوئی جارحیت نہ کی جائے۔ یہ بیان نہ صرف دفاعی حکمت عملی کی وضاحت کرتا ہے بلکہ خطے میں تناؤ کو کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اس خطاب میں صدر پزشکیان نے زور دیا کہ ایران کو خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر سیکیورٹی اور امن کی بنیاد رکھنی چاہیے۔ انہوں نے خطے پر ایرانی حملوں پر معذرت بھی کی اور واضح کیا کہ تہران ان حملوں کو فوری طور پر روک دے گا۔ یہ حملے، ان کے بقول، صفوں میں پیدا ہونے والی غلط فہمی اور انتشار کی وجہ سے ہوئے، جو ایک عارضی انتشار کا نتیجہ تھے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب خلیجی عرب ممالک بحرین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر ایرانی ڈرون اور میزائلوں کی لہروں نے شدید تشویش پیدا کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر فضائی حملے جاری ہیں، جو پورے خطے کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ صدر نے مزید کہا کہ خطے میں مستحکم امن اور استحکام کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ گہرا تعاون ناگزیر ہے۔ ایران مشترکہ کوششوں کا پرعزم حامی ہے اور علاقائی سلامتی کو مشترکہ ذمہ داری سمجھتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا "خواب” ہے جسے وہ اپنی قبر تک ساتھ لے جائیں، کیونکہ ایران اپنی خودمختاری اور وقار کی حفاظت کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔






Discussion about this post