ایرانی فوج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک کھلا اور دلیرانہ چیلنج دے کر دنیا کو حیران کر دیا ہے: "ہمت ہے تو آبنائے ہرمز سے گزر کر دکھاؤ!” یہ الفاظ نہ صرف ایک فوجی اعلان ہیں بلکہ ایک طاقتور پیغام ہیں کہ ایران اس اہم ترین بحری گزرگاہ پر اپنا مکمل کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز صرف امریکہ اور اسرائیل سے منسلک جہازوں کے لیے بند ہے، جبکہ باقی دنیا کے لیے یہ راستہ کھلا رہے گا۔ یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو عالمی تیل کی سپلائی کو برقرار رکھتے ہوئے مخصوص دشمنوں کو نشانہ بناتی ہے، اور یہ ثابت کرتی ہے کہ ایران اپنی سرزمین اور سمندری حدود کی حفاظت میں کوئی رعایت نہیں دے گا۔ صدر ٹرمپ نے منگل کو اپنے بیان میں اعلان کیا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی بحریہ آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزرنے میں مدد دے گی، اور بحری جہازوں کی اسکورٹ شروع کر دے گی۔ یہ بیان امریکی طاقت اور عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ دنیا کی توانائی کی آزادانہ سپلائی کو کسی بھی قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے آبنائے ہرمز کو ایک خطرناک میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں ٹریفک تقریباً رک گئی ہے۔

دنیا کی سب سے اہم بحری گزرگاہ پر یہ رکاوٹ عالمی معیشت کو شدید جھٹکا دے رہی ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتیں چین، بھارت سمیت ہر جگہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جو لاکھوں لوگوں کی زندگیوں اور معیشتوں پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ صورتحال اور بھی سنگین ہے، کیونکہ ملک کی درآمدی تیل کی تقریباً نوے فیصد سپلائی اسی راستے سے ہوتی ہے۔ اگر یہ بحران طول پکڑتا ہے تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان چھو سکتی ہیں، اور روزمرہ زندگی پر بھاری بوجھ پڑ سکتا ہے۔








Discussion about this post