ایران کی جوابی کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ کی فضاؤں کو لرزا کر رکھ دیا ہے اور اب امریکی ٹی وی چینلز نے خود ایران کی ان بڑی جنگی کامیابیوں کی تصدیق کر دی ہے، جو دشمن کی ہوا بازی کی طاقت کو جڑ سے کمزور کرنے والی ہیں۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی ایران نے اردن میں تعینات جدید ترین تھاڈ (THAAD) میزائل ڈیفنس سسٹم کے ریڈار کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا . سیٹلائٹ تصاویر میں مُوَفَّق سالتی ایئر بیس پر راکھ اور ملبہ کا ڈھیر واضح ہے۔ متحدہ عرب امارات میں بھی دو الگ الگ مقامات پر تھاڈ ریڈار سسٹم کی عمارتیں نشانہ بنیں؛ عمارتوں کے اندر ہونے کی وجہ سے مکمل نقصان کا اندازہ مشکل ہے، مگر ایک تھاڈ ریڈار کی قیمت تنہا پچاس کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے ، یہ ایک ایسی ضرب ہے جو اربوں ڈالر کی دفاعی دیوار کو چھلنی کر رہی ہے۔ قطر میں بھی امریکی ارلی وارننگ ریڈار سسٹم کو ایرانی میزائلوں نے نیست و نابود کر دیا ، یہ وہ نظام ہے جو بالسٹک میزائلوں کی نشاندہی کرتا ہے، اور اس کی تباہی سے پورے خلیجی علاقے کی ہوائی نگرانی شدید متاثر ہوئی ہے۔

امریکی میڈیا خود تسلیم کر رہا ہے کہ ایران نے کمیونیکیشن، ریڈار اور جاسوسی کے آلات کو نشانہ بنا کر دشمن کی ایئر ڈیفنس کو کمزور کرنے کی مہارت مند حکمت عملی اپنائی ہے یہ صرف حملے نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی جنگ کا آغاز ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی نے ٹھوس لہجے میں اعلان کیا: ایران کسی بھی طویل جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ دشمن کو دردناک اور مسلسل ضربیں لگیں گی، اور جلد ہی ایسے نئے اسٹریٹیجک ہتھیار میدان میں آئیں گے جو اب تک کبھی استعمال نہیں ہوئے







Discussion about this post