ایران کے طاقتور فوجی قائد نے ایک ایسا اعلان کیا ہے جو عالمی سیاست کی فضا کو مزید گرم کر سکتا ہے، خبردار کرتے ہوئے کہ اگر اسرائیل اور امریکا نے ایران کی حکومت کو گرانے کی کوئی بھی سازش کی تو اس کا جواب اسرائیل کے حساس جوہری مرکز دیمونا پر براہ راست حملے کی صورت میں دیا جائے گا۔ یہ بیان ایک زبردست یاد دہانی ہے کہ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ یا مداخلت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے، اور اس کی قیادت اپنی سرزمین کی حفاظت میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ خاص طور پر دیمونا جوہری ری ایکٹر کا حوالہ دیتے ہوئے، ایرانی افسر نے واضح کیا کہ جنگ کی صورت میں ایران کی دفاعی صلاحیت دشمن کی اہم ترین تنصیبات کو نشانہ بنانے کی پوری طاقت رکھتی ہے، جو ایک نئی جرات مندانہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے۔

اسی دوران، سابق سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ نے اس تنازع کو نیتن یاہو کی ذاتی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بحران علاقائی امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے، مگر ایران کی طرف سے یہ واضح پیغام ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سیاسی استحکام کے تحفظ کے لیے کسی بھی انتہا تک جانے سے گریز نہیں کرے گا۔ ایرانی قائد کی یہ خبرداری ایک ایسا لمحہ ہے جو تاریخ کے صفحات پر ثبت ہو سکتا ہے، جہاں ایران نے اپنی دفاعی پالیسی کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے، اور اگر کوئی رجیم چینج کی کوشش ہوئی تو اس کا نتیجہ وسیع پیمانے پر تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، جو پوری دنیا کو سوچنے پر مجبور کر دے گا۔








Discussion about this post