ایران نے اسرائیل پر تباہی خیز میزائلوں کا ایک نیا اور شدید سلسلہ شروع کر کے پورے خطے کو لرزا دیا ہے، جہاں کم از کم سات افراد زخمی ہوئے جبکہ متعدد گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں اور املاک کو بھاری نقصان پہنچا۔ خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں ایرانی میزائل گرنے سے زبردست آگ بھڑک اٹھی، جس نے علاقے کو خوف و ہراس کی لپیٹ میں لے لیا۔ اسرائیلی میڈیا نے تصدیق کی کہ مغربی یروشلم پر ہونے والے اس حملے میں نو اسرائیلی شہری ہلاک ہو گئے اور متعدد زخمی ہیں، جو اس جنگ کی اب تک کی سب سے ہولناک گھڑیوں میں سے ایک ہے۔تل ابیب، یروشلم اور مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں بھی ایرانی میزائلوں کی بارش ہوئی، جس کے بعد سائرن کی چیخیں گونج اٹھیں اور ہزاروں شہریوں کو فوری طور پر بنکروں اور محفوظ مقامات کی طرف دوڑایا گیا، جہاں خوف کی ایک نئی لہر دوڑ گئی۔ یہ ایرانی جوابی کارروائی صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہی بلکہ خلیجی ممالک کو بھی اپنی زد میں لے لیا، جہاں کویت میں امریکی سفارت خانے کے قریب دھواں اٹھتا دیکھا گیا اور فائر فائٹرز اور ایمبولینسز کی آمد کا منظر دیکھنے میں آیا۔ امریکی سفارت خانہ کویت نے اپنی ویب سائٹ پر سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے شہریوں کو خبردار کیا کہ سفارت خانے کی طرف نہ جائیں، گھروں کی نچلی منزل پر پناہ لیں، کھڑکیوں سے دور رہیں اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں، کیونکہ میزائل اور ڈرون حملوں کا خطرہ اب بھی منڈلا رہا ہے۔
سعودی عرب آرامکو کی ریفائنری میں لگی کا کا ایک اور منظر https://t.co/PnhFgAT3VB pic.twitter.com/myg4fU7TkQ
— Shahid Hussain (@ShahidHussainJM) March 2, 2026
اسی دوران بحرین کے دارالحکومت منامہ، قطر کے دوحہ اور متحدہ عرب امارات کے ابوظہبی میں بھی زور دار دھماکوں کی آوازیں گونجیں، جن میں سی این این کے مطابق دوحہ اور دبئی میں متعدد شدید دھماکے اور جنگی طیاروں کی چیخیں فضا میں گونج اٹھیں۔عراق کے کرد علاقے کے دارالحکومت اربیل میں بھی شدید دھماکوں کی اطلاعات ہیں، جہاں عراقی فضائی دفاعی نظام نے اربیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی کوشش کی۔
بحرین pic.twitter.com/pAxJOYLFcW
— صحرانورد (@Aadiiroy2) March 2, 2026
کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ کویت سٹی کے قریب مینا الاحمدی آئل ریفائنری میں ملبہ گرنے سے دو کارکن معمولی زخمی ہوئے، جبکہ بحرین کی وزارت داخلہ نے فضائی حملے کے سائرن فعال کر کے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی اور شیخ خلیفہ بن سلمان پل کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ خطے میں جاری اس تباہی خیز لڑائی اور جوابی حملوں نے خلیجی ممالک کو ہائی الرٹ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں شہریوں کو انتہائی احتیاط برتنے اور ہر لمحے تیار رہنے کی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں







Discussion about this post