ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور انہیں "بڑے جھوٹ” کا مجموعہ قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل سے متعلق امریکی دعوے سراسر بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جنوری میں احتجاجی واقعات کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات بھی محض پروپیگنڈا ہیں۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت کے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ایران پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو جلد ہی امریکا تک پہنچنے کی صلاحیت رکھیں گے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران نے پہلے ہی ایسے میزائل بنا لیے ہیں جو یورپی ممالک اور امریکی اڈوں کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ گزشتہ برس جون میں امریکی حملوں (آپریشن مڈنائٹ ہیمر) سے ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا، مگر اب تہران دوبارہ اسے بحال کرنے کی "شیطانی کوششوں” میں مصروف ہے۔

صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ تہران واضح طور پر یقین دہانی کرائے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ ان کی ترجیح سفارتکاری سے مسئلہ حل کرنا ہے، لیکن انہوں نے سخت انتباہ دیا کہ دنیا کا نمبر ون دہشت گردی کا سپانسر ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں ہونے دیں گےیہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ خطاب تقریباً ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ طویل تھا، جو امریکی تاریخ کا سب سے لمبا اسٹیٹ آف دی یونین ایڈریس ہے، اور اس میں ایران کا معاملہ ایک اہم حصہ تھا۔ ٹرمپ نے ایران کو "دنیا کا سب سے بڑا دہشت گردی کا سپانسر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسے جوہری طاقت بننے نہیں دیں گے۔ ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کے بیان سے واضح ہے کہ تہران ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتا ہے اور میزائل پروگرام کو دفاعی ضرورت سمجھتا ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت بڑھ رہی ہے جب امریکا مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر فوجی تیاریاں کر رہا ہے اور مذاکرات جاری ہیں۔







Discussion about this post