ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں تہران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت علی خامنہ ای کے خلاف کسی بھی قسم کا جارحانہ اقدام کیا گیا تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہوں گے۔ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی جانب کسی نے ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ ان کے بقول، ایسا اقدام کرنے والوں کے لیے نتائج ناقابلِ تصور ہوں گے اور اس کی ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہو گی۔یہ سخت بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ایک انٹرویو میں آیت خامنہ ای کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایران میں نئی قیادت کی بات کی تھی، جس پر ایرانی حکام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

ایران کے صدر بھی خبردار کر چکے ہیں کہ آیت خامنہ ای پر کسی بھی قسم کا حملہ مکمل جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، اور اس کے اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران میں بگڑتی معاشی صورتحال کے خلاف ہونے والے شدید عوامی احتجاج اور مظاہرین کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے بعد ایران اور امریکا کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق آیت اللّٰہ خامنہ ای نے پہلی مرتبہ ہلاکتوں کی تعداد کو ’کئی ہزار‘ قرار دیتے ہوئے اس کا براہِ راست الزام امریکا پر عائد کیا ہے۔ ادھر عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن بحرِ ہند کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ امریکی حکام نے اس پیش رفت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم اطلاعات کے مطابق جہاز کی سمت مشرقِ وسطیٰ کی جانب بتائی جا رہی ہے، جو صورتحال کو مزید حساس بنا رہی ہے۔







Discussion about this post