امریکی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس نے خطے میں ایک بار پھر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف طویل جنگ کے بجائے ایک مختصر مگر انتہائی سخت اور فیصلہ کن فوجی کارروائی کے خواہاں ہیں۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں زیرِ غور حکمتِ عملی کا مقصد طاقت کا ایسا مظاہرہ کرنا ہے جو فوری نتائج دے سکے۔ ادھر اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی آرمی چیف نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر فوری دفاعی اقدامات کا حکم دے دیا ہے۔ شمالی اسرائیل سمیت مختلف حساس علاقوں میں بم شیلٹرز کھول دیے گئے ہیں، جبکہ فوجی تیاریوں میں واضح تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق تل ابیب کو توقع ہے کہ امریکا ایران پر کسی بھی کارروائی سے قبل اسرائیل کو پیشگی اطلاع دے گا۔ اسی دوران جرمن ایئر لائن نے اسرائیل کے لیے رات کی پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ خطے کی بدلتی صورتِ حال پر عالمی فضائی ادارے بھی محتاط نظر آ رہے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ایران میں بڑے پیمانے پر پھانسیوں کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں، اور داخلی صورتحال پر مکمل کنٹرول ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معتبر ذرائع سے آگاہ کیا گیا ہے کہ ایران میں ہلاکتوں اور پھانسیوں کا سلسلہ رک چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مظاہرین کے خلاف تشدد دوبارہ بڑھا تو امریکا سخت ردعمل دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے تحت قطر میں واقع امریکی فضائی اڈے العدید سے کچھ اہلکاروں کو نکالنے کا حکم دے دیا ہے، جبکہ برطانیہ نے بھی اپنے عملے کو اسی اڈے سے واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران میں امن قائم ہے اور حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانا سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ عزم اور حوصلے کو بمباری سے شکست نہیں دی جا سکتی۔ اسی گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پینٹاگون کے ایک کنٹریکٹر کو وینزویلا آپریشن سے متعلق خفیہ معلومات لیک کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں گرین لینڈ سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو اس خطے کی ضرورت ہے اور آئندہ حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم ڈنمارک کے ساتھ تعلقات بدستور اچھے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ تجارت کے ذریعے دنیا میں آٹھ جنگیں رکوا چکے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی نے یورپی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔ یورپی حکام کے مطابق امریکی فوجی مداخلت کے امکانات قریب آ چکے ہیں، جس کے پیش نظر برطانیہ نے قطر میں موجود اپنے فوجی اڈوں سے عملہ واپس بلا لیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب، قطر اور عمان نے کھل کر ایران پر امریکی حملے کی مخالفت کر دی ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ مظاہروں کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی، جس پر تہران نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ مذاکرات اور جنگ، دونوں کے لیے تیار ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی برادری کو ایک بار پھر اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے، اور آنے والے گھنٹے غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔







Discussion about this post