دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید بتایا کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، خطے میں امن و سلامتی کے فروغ، اور اقتصادی تعاون کے نئے امکانات کی راہ ہموار کرے گا۔ ایرانی صدر کے شیڈول کے مطابق وہ اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے علاوہ مختلف اہم معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی کریں گے، جن کا تعلق تجارت، توانائی، سرحدی سیکیورٹی، اور عوامی روابط سے ہے۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے، بارڈر مارکیٹس کے قیام، اور دو طرفہ تجارت کو مقامی کرنسی میں فروغ دینے جیسے موضوعات بھی زیر بحث آئیں گے۔ حکام کے مطابق صدر پزشکیان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک خطے میں استحکام، افغانستان کی صورتحال، اور ایران پر عالمی پابندیوں کے تناظر میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایرانی صدر پاکستان کے صنعتی و تجارتی حلقوں سے بھی ملاقاتیں کریں گے اور اسلام آباد میں مختصر قیام کے بعد ممکنہ طور پر لاہور یا کراچی کا دورہ بھی کریں گے، تاہم اس کی سرکاری تصدیق تاحال نہیں کی گئی۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ مہینوں میں مثبت پیش رفت دیکھی گئی ہے، خاص طور پر بارڈر سیکیورٹی تعاون، منشیات کی روک تھام، اور زائرین کی سہولیات کی بہتری کے حوالے سے مشترکہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔







Discussion about this post