ایک غیر متوقع اور تاریخ ساز موڑ پر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر جاری ایک جذباتی پیغام میں ٹرمپ نے اعلان کیا:
"مبارک ہو دنیا! ایران اور اسرائیل نے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ چھ گھنٹوں میں ایران فوری طور پر اپنی فوجی کارروائیاں روک دے گا، جبکہ اسرائیل بارہ گھنٹے بعد باضابطہ طور پر تمام حملے بند کرے گا۔ چوبیس گھنٹے کے اندر یہ جنگ بندی بین الاقوامی طور پر تسلیم کر لی جائے گی، جو مشرقِ وسطیٰ میں جاری بارہ روزہ خونریزی کا خاتمہ سمجھی جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا:
"یہ ایک ایسی جنگ تھی جو دہائیوں تک تباہی مچا سکتی تھی، لیکن قیادت کی بصیرت اور خدا کے کرم سے دنیا ایک بڑے المیے سے بچ گئی ہے۔”
انہوں نے ایران، اسرائیل، مشرقِ وسطیٰ، امریکا اور پوری دنیا کے لیے دعا کی کہ خدا رحم کرے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اس جنگ بندی کے پیچھے قطر کا نہایت اہم کردار رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق قطری وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایران اور امریکا کے درمیان رابطے کا پل بن کر جنگی کشیدگی میں کمی کے لیے براہِ راست مداخلت کی۔ اس وقت قطر کی ثالثی فیصلہ کن ثابت ہوئی جب ایران نے امریکی حملوں کے ردعمل میں قطر میں موجود العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا، جہاں روشنیوں کی جھلملاہٹ اور دھماکوں کی آوازوں نے دوحہ کو لرزا کر رکھ دیا۔

ایران کا ردعمل — احتیاط اور مشروط خاموشی
ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنی خودمختاری کا دفاع ضرور کرے گا۔ انہوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا:
"اگر اسرائیل اپنی جارحیت بند کرتا ہے، تو ایران بھی عسکری ردعمل روک دے گا۔ ہم نے جنگ شروع نہیں کی، مگر خاموش بھی نہیں رہیں گے۔”
ایران نے اس سے قبل امریکی B-2 طیاروں کے حملے کے جواب میں اسرائیل پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے، جن میں ’خیبر‘ میزائل بھی شامل تھا۔ ان حملوں میں اسرائیل کا ایک پاور پلانٹ تباہ ہو گیا اور کئی علاقے اندھیرے میں ڈوب گئے۔
امریکی حملہ ، نیوکلیئر تنصیبات ہدف پر
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فورسز نے ایران کے تین اہم جوہری مراکز: فردو، نطنز اور اصفہان کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق:
"ہم نے فردو کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، یہ ایک واضح پیغام ہے۔”
قطر کی فضائی حدود بند، اسکولوں میں تعطیل
ادھر قطر نے اپنی فضائی حدود غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی ہے، جبکہ عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اسکولوں میں تعطیل کا اعلان بھی کیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر تھا، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان، قطر کی پس پردہ سفارت کاری، اور ایران و اسرائیل کی مشروط خاموشی نے دنیا کو جنگ کی بھٹی سے نکال کر امن کی طرف ایک نیا راستہ دکھایا ہے۔







Discussion about this post