ایران نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے منسلک ایک اہم سائبر ایجنٹ محمد امین شایستہ کو سزائے موت دے دی ہے۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، محمد امین شایستہ کو 2023 کے آخر میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر اسرائیل کے لیے سائبر جاسوسی کا سنگین الزام تھا۔ ایرانی عدلیہ کے مطابق، ملزم نے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے لیے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، جسے مکمل عدالتی کارروائی اور سپریم کورٹ سے توثیق کے بعد سزائے موت سنائی گئی۔ عدالتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ملکی سلامتی سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ یہ سزائے موت ایسے وقت پر دی گئی ہے جب 13 جون کو اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے موساد سے وابستہ عناصر کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز کیا تھا۔ اب تک کم از کم تین افراد کو جاسوسی کے الزام میں پھانسی دی جا چکی ہے۔ ان میں مجید موسیبی بھی شامل ہیں، جنہیں حساس جوہری معلومات افشا کرنے کی کوشش پر گزشتہ روز سزائے موت دی گئی۔ ایرانی سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ موساد سے وابستہ جاسوس، ملک کے حساس اداروں اور تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں ملوث رہے ہیں، اور ان کے خلاف کارروائیاں قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کی جانب سے جاسوسی کے الزامات میں سزائے موت کی بڑھتی ہوئی تعداد، اسرائیل کے ساتھ جاری خفیہ جنگ کے سنگین تر ہوتے منظرنامے کی نشاندہی کرتی ہے۔







Discussion about this post