راجستھان کی ریاست میں ایک شرمناک اور انتہائی افسوسناک واقعہ نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رکن پارلیمنٹ سکھبیر سنگھ جونپوریہ کی ایک ویڈیو وائرل ہو گئی ہے، جس میں وہ ایک کمبل تقسیم کے پروگرام کے دوران مسلم خواتین کو امداد دینے سے صاف انکار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جونپوریہ خواتین سے ان کے نام پوچھتے ہیں۔ جب ایک خاتون نے اپنا مسلم نام بتایا جیسے سکران خان تو ان کا رویہ فوراً بدل گیا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت دی کہ انہیں کمبل نہ دیا جائے، اور جو پہلے دیے گئے تھے، وہ بھی واپس لے لیے جائیں۔ وہ کھلے الفاظ میں کہتے ہیں کہ "جو لوگ وزیراعظم نریندر مودی کو گالیاں دیتے ہیں، انہیں کمبل لینے کا کوئی حق نہیں”۔ اس کے بعد انہوں نے ان خواتین کو وہاں سے جانے کا حکم بھی دے دیا، اور یہ کہا کہ انہیں برا لگے یا نہ لگے، یہ ان کی مرضی ہے۔ یہ واقعہ ٹونک ضلع کے نیوائی علاقے کے کریدہ گاؤں میں پیش آیا، جہاں یہ پروگرام غریب خواتین کی مدد کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ ویڈیو کے آخر میں کچھ لوگ اس رویے پر شدید احتجاج کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں، جو اس کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔ اس ویڈیو نے پورے بھارت میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
The ugly face of communal bigotry and anti-Muslim discrimination within the BJP. Former BJP MP Sukhbir Singh Jaunapuria, while distributing blankets, asked a poor woman her name. When she identified herself as a Muslim, Sukran Khan, He asked her to step aside and leave the… pic.twitter.com/JGkvgt8BJp
— Mohammed Zubair (@zoo_bear) February 23, 2026
کانگریس اور دیگر مخالف جماعتوں نے اسے شدید مذمت کی ہے، اسے مذہبی بنیاد پر امتیازی سلوک اور انسانیت کی توہین قرار دیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ امداد اور خیرات کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ یہ ضرورت مندوں کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ ووٹ یا سیاسی وفاداری کی بنیاد پر۔جونپوریہ نے بعد میں وضاحت کی کہ یہ پروگرام سرکاری نہیں بلکہ ان کی ذاتی فنڈنگ سے تھا، لہٰذا وہ فیصلہ کرنے کے مجاز تھے۔ لیکن یہ وضاحت غصے کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا رہی ہے، کیونکہ انسانی ہمدردی اور سماجی انصاف کو مذہبی یا سیاسی رنگ دینا ناقابل قبول ہے۔







Discussion about this post