بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی گلیوں میں ایک خوفناک خاموشی چھائی ہوئی ہے، جہاں لاپتہ ہونے والوں کی بڑھتی تعداد شہری سلامتی کے نظام پر گہرے سوالات اٹھا رہی ہے اور دل دہلا دینے والے اعداد و شمار سامنے آ رہے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، جنوری 2026 کے صرف پہلے پندرہ دنوں میں 807 افراد لاپتہ ہوئے، جن میں سے 509 خواتین اور لڑکیاں شامل ہیں، یعنی تقریباً دو تہائی تعداد کمزور طبقے کی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر گمشدگی کا شکار ہو رہی ہے۔ ان لاپتہ افراد میں 191 کم عمر بچے بھی شامل ہیں، جن کی معصومیت شہر کی تاریک حقیقت کے سامنے بے بس نظر آتی ہے اور نئی دہلی کو خواتین اور بچوں کے لیے ایک خطرناک جگہ قرار دے رہی ہے۔

روزانہ اوسطاً 54 افراد کا غائب ہو جانا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین الزامات عائد کر رہا ہے، جہاں خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں بے چین اور بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ سال 2025 میں بھی 24 ہزار 500 سے زائد افراد لاپتہ ہوئے تھے، جن میں 60 فیصد سے زیادہ خواتین تھیں، جو اس مسلسل بحران کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے اور ماہرین اسے شہری سلامتی کے نظام میں بنیادی کمزوری قرار دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھارت کو خواتین کے خلاف جرائم اور جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات پر شدید تنقید کا سامنا رہا ہے، اور دہلی بار بار اس فہرست میں سرفہرست آتی رہی ہے جہاں کمزوروں کی حفاظت ایک چیلنج بن چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بڑھتے ہوئے واقعات ریاستی نگرانی کی کمی اور ادارہ جاتی ناکامی کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان خواتین، بچوں اور کمزور طبقات کو اٹھانا پڑ رہا ہے جو شہر کی رونق کے بیچ بھی خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ نئی دہلی، جو ہندوستان کا دل کہلاتی ہے، آج اپنے شہریوں کے لیے ایک پراسرار سایہ بن چکی ہے جہاں ہر گزرتے لمحے میں کوئی نہ کوئی اپنے گھر والوں سے بچھڑ رہا ہے، اور یہ خاموش بحران سب کو جھنجھوڑ کر رکھ دے رہا ہے۔







Discussion about this post