بھارت میں بی جے پی کی مودی حکومت کے دور میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف انتہا پسند ہندو گروہوں کی سرگرمیاں تشویشناک حد تک بڑھتی جا رہی ہیں، جہاں مذہبی رواداری کے دعوے زمینی حقائق سے متصادم نظر آتے ہیں۔ رواں سال کرسمس کے موقع پر پیش آنے والے واقعات نے ایک بار پھر بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مختلف بھارتی ریاستوں میں کرسمس کی خوشیوں کو نفرت کی نذر کر دیا گیا، جہاں انتہا پسند عناصر نے گرجا گھروں، اسکولوں اور تقریبات کو نشانہ بنایا۔ کئی مقامات پر کرسمس کی سجاوٹ توڑ دی گئی، کارول گانے والوں کو دھمکایا گیا اور مذہبی تقاریب زبردستی رکوا دی گئیں، جس سے خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا ہو گئی۔ راجستھان کے شہر جودھپور میں ایک اسکول پر حملہ کیا گیا جہاں کرسمس بینرز اور آرائش کو نقصان پہنچایا گیا اور ہندو نعرے لگاتے ہوئے ماحول کو کشیدہ بنا دیا گیا۔ اسی طرح کیرالہ کے ضلع پلاکاڈ میں وشوا ہندو پریشد کے کارکنوں نے ایک سرکاری اسکول میں کرسمس کی تقریبات رکوا دیں اور اساتذہ کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ ہریانہ اور اوڑیسہ سے بھی ایسے واقعات سامنے آئے جہاں ہندو قوم پرست گروہوں نے چرچ کی عبادات میں مداخلت کی اور تبدیلی مذہب کے بے بنیاد الزامات کے تحت مسیحی برادری کو ہراساں کیا گیا۔ ان واقعات نے یہ تاثر مزید گہرا کر دیا ہے کہ اقلیتوں کو منظم انداز میں دباؤ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
"You can’t celebrate Christmas here.” ❌⚠️
A group of caste Hindus misbehaved and threatened women and children over wearing Santa Claus hats in New Delhi.
Just, imagine if Western countries started treating caste Hindus the same way.
These fanatic goons are insulting INDIA. pic.twitter.com/QGPz3scUYU
— Suraj Kumar Bauddh (@SurajKrBauddh) December 23, 2025
نئی دہلی میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے حالات کی سنگینی کو عیاں کر دیا، جس میں سانتا کلاز کی ٹوپیاں پہنے مسیحی خواتین اور بچوں کو ایک عوامی مقام سے زبردستی نکالتے ہوئے دیکھا گیا۔ انتہا پسند عناصر نے انہیں دھمکی دی کہ یہاں کرسمس منانے کی اجازت نہیں، حتیٰ کہ سانتا کی ٹوپیاں اتارنے کا حکم بھی دیا گیا۔ چھتیس گڑھ میں کرسمس سے قبل نفرت انگیز پوسٹرز گردش کرتے رہے، جن میں مسیحیوں کے خلاف ہڑتال کی کال دی گئی۔ یہ نفرت انگیز مہم اس بات کا ثبوت ہے کہ تشدد اور اشتعال انگیزی کو منظم انداز میں فروغ دیا جا رہا ہے۔ یہ واقعات محض کرسمس تک محدود نہیں رہے، بلکہ رواں سال کے دوران پورے بھارت میں مسیحیوں کے خلاف ہزاروں حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔ انتہا پسند گروہ ہندوتوا کے نام پر مذہبی اقلیتوں کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ بی جے پی کی مودی سرکار کی خاموشی، اور بعض حلقوں کے نزدیک بالواسطہ حمایت، ان عناصر کے حوصلے مزید بلند کر رہی ہے۔بھارت میں بڑھتی ہوئی یہ مذہبی انتہا پسندی نہ صرف اقلیتوں کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے بلکہ ملک کے سیکولر تشخص اور آئینی اقدار پر بھی ایک گہرا سوالیہ نشان بن چکی ہے۔







Discussion about this post