پاکستان کی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی ایئر لائن ’ایئر انڈیا‘ کو شدید آپریشنل اور مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ مغربی ممالک کے لیے اس کی پروازوں کو طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے نہ صرف ایندھن کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے بلکہ سفر کا دورانیہ بھی تین گھنٹے تک بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال نے ایئر انڈیا کو ایک غیر معمولی قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے , بھارتی حکومت پر دباؤ کہ چین کو قائل کیا جائے تاکہ سنکیانگ کی حساس عسکری فضائی حدود استعمال کی اجازت حاصل کی جا سکے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایئر انڈیا کی یہ درخواست ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بھارت اور چین کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی کو چند ہی ہفتے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ پروازیں پانچ سال تک سرحدی جھڑپوں کے باعث معطل رہی تھیں۔ اب جب کہ فضائی رابطہ بحال ہوا ہے، ایئر انڈیا چاہتی ہے کہ بھارتی حکومت سفارتی سطح پر چین سے بات کرے تاکہ سنکیانگ کے ہوٹن، کاشغر اور ارمچی ایئر پورٹس تک ہنگامی رسائی بھی ممکن ہو سکے، جو امریکا، یورپ اور کینیڈا کی پروازوں کے دورانیے کو کم کر سکتا ہے۔ایئر انڈیا پہلے ہی اپنی عالمی ساکھ کو بحران سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جون میں لندن جانے والا بوئنگ 787 ڈریم لائنر گجرات میں تباہ ہوا، جس میں 260 افراد ہلاک ہوئے۔ حادثے کے بعد ایئرلائن کو سیکیورٹی چیک کے لیے پروازیں محدود کرنا پڑیں، اور اب پاکستان کی فضائی پابندی نے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔سرکاری دستاویزات کے مطابق ایئر انڈیا کے ایندھن کے اخراجات 29 فیصد بڑھ چکے ہیں، جب کہ کچھ طویل پروازیں تین گھنٹے تک اضافی وقت لے رہی ہیں۔ دستاویز میں واضح کہا گیا ہے کہ طویل فضائی نیٹ ورک اس وقت شدید مالی دباؤ میں ہے اور اگر سنکیانگ کا متبادل راستہ مل جائے تو یہ ایک اسٹریٹیجک پیش رفت ہوگی۔ٹاٹا گروپ اور سنگاپور ایئرلائنز کی ملکیت رکھنے والی ایئر انڈیا نے اندازہ لگایا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے باعث اسے اب تک 455 ملین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے , ایک ایسا جھٹکا جس نے ایئرلائن کی عالمی پوزیشن کو غیر معمولی حد تک متاثر کیا ہے۔دوسری جانب چینی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے سے لاعلم ہے اور مزید معلومات کے لیے متعلقہ حکام سے رجوع کیا جائے۔ اس کے علاوہ ایئر انڈیا، بھارت، چین اور پاکستان کے سول ایوی ایشن حکام نے بھی رائٹرز کی پوچھ گچھ کا جواب نہیں دیا۔







Discussion about this post