بھارت اور امریکا کے درمیان توانائی کے شعبے میں ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت امریکا بھارت کو سالانہ تقریباً 2.2 ملین ٹن مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) فراہم کرے گا، جو بھارت کی سالانہ ایل پی جی درآمدات کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد بھارت کے توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اور صارفین کو محفوظ و سستی ایل پی جی فراہم کرنا ہے۔ بھارتی وزیر برائے پیٹرولیم اور قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے بتایا کہ یہ امریکی گلف کوسٹ سے حاصل کی جانے والی ایل پی جی بھارت کے لیے امریکی مارکیٹ کا پہلا منظم معاہدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے بھارتی مارکیٹ میں ایل پی جی کی دستیابی بہتر ہوگی اور توانائی کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، امریکا اور بھارت کے تعلقات اگست میں تنزلی کا شکار ہو گئے تھے، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر ٹیکس 50 فیصد تک بڑھا دیا تھا اور امریکی حکام نے الزام لگایا کہ بھارت روسی سستی تیل خرید کر یوکرین میں جنگ کی حمایت کر رہا ہے۔

تاہم بھارت نے اس الزام کی تصدیق نہیں کی تھی۔اس معاہدے کے پس منظر میں بھارت نے پہلے ہی اپنے ایل پی جی ذرائع کو متنوع بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اکتوبر میں سرکاری کمپنی ایچ پی سی ایل-میتل انرجی نے امریکی پابندیوں کے بعد روسی خام تیل کی خریداری روک دی تھی، جبکہ نجی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز بھی پابندیوں کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ معیشت کے حوالے سے، بھارت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت کے طور پر تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اور حالیہ سہ ماہی میں 5 سہ ماہیوں میں سب سے زیادہ رفتار سے نمو دیکھی گئی۔ تاہم امریکی محصولات کی وجہ سے معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اور ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر جلد نرمی نہ کی گئی تو جی ڈی پی کی نمو میں اس مالی سال میں 60 سے 80 بنیاد پوائنٹس تک کمی ہو سکتی ہے۔ یہ معاہدہ بھارت اور امریکا کے تعلقات میں توانائی کے شعبے میں نیا باب کھولتا ہے اور دونوں ممالک کے لیے اقتصادی اور تجارتی مواقع کو فروغ دینے کا اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔







Discussion about this post