بھارت میں ایک چونکا دینے والی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس اور مالی گاؤں بم دھماکوں کے مقدمے میں ملزم رہنے والے بھارتی فوجی افسر لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت کو دہشت گردی کی عدالت سے بری ہونے کے محض دو ماہ بعد فوج نے کرنل کے عہدے پر ترقی دے دی۔ پروہت ان 7 افراد میں شامل تھے جن پر دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ان میں بی جے پی کی رکن پارلیمان پرگیہ سنگھ ٹھاکر بھی شامل تھیں۔ عدالت نے استغاثہ کی ناکامی کے باعث ملزمان کو بری کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سنگین شبہات موجود ہیں لیکن شک کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ این آئی اے نے عندیہ دیا تھا کہ وہ فیصلہ بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کر سکتی ہے، مگر اس حوالے سے عملی اقدام سامنے نہیں آیا۔ اس دوران، دھماکے میں جاں بحق 6 افراد کے لواحقین نے بریت کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔ پروہت کی اہلیہ اپرنا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ترقی کی تصدیق کی، جسے اس بات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ حکومت ایک ایسے شخص کے ساتھ کھڑی ہے جو 17 برس تک دہشت گردی کے سنگین مقدمے کا سامنا کرتا رہا۔ وفاقی وزیر گری راج سنگھ نے پروہت کو رینک لگانے کی تقریب کی تصویر جاری کرتے ہوئے مبارکباد دی اور لکھا:
"حکومت ان محب وطن افسران کے ساتھ کھڑی ہے جو جرات اور دیانت داری کے ساتھ قوم کی خدمت کرتے ہیں۔”

پروہت کو 2008 میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی گرفتاری کو دھماکے کے محرکات ثابت کرنے کے لیے اہم قرار دیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات مہاراشٹر اے ٹی ایس نے کیں، بعد ازاں کیس این آئی اے کے سپرد کر دیا گیا۔ اے ٹی ایس کے مطابق پروہت نے 2006 میں ’ابھینو بھارت‘ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی، جس کے ذریعے مبینہ طور پر سازش تیار کی گئی۔ الزام تھا کہ یہ تنظیم ایک ہندو راشٹر قائم کرنا چاہتی تھی، جس کا اپنا آئین، پرچم اور جلاوطنی میں حکومت ہو، جسے اسرائیل یا تھائی لینڈ سے چلانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ واضح رہے کہ 18 فروری 2007 کو دہلی سے لاہور جانے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں ہریانہ کے پانی پت کے مقام پر بم دھماکے میں 68 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں 43 پاکستانی بھی شامل تھے۔ آگ بھڑکنے سے ٹرین کی کئی بوگیاں جل گئیں جبکہ 10 افراد زخمی بھی ہوئے۔ اس حملے کو بھارت کی سالمیت اور سکیورٹی کے خلاف منظم سازش قرار دیا گیا تھا۔







Discussion about this post