یہ خبر عالمی سطح پر آزادیٔ صحافت کے احترام اور اس کے لیے دی جانے والی قربانیوں کی ایک اہم یاد دہانی ہے۔سال 2025 کے "ورلڈ پریس فریڈم ہیروز ایوارڈ” کے لیے منتخب ہونے والے سات صحافیوں میں ہر ایک کا نام جرات، سچائی اور انسانیت کے لیے جدوجہد کی علامت ہے، مگر سب سے نمایاں توجہ فلسطین کی شہید صحافی مریم ابو دقہ کو حاصل ہوئی ہے۔

مریم ابو دقہ کی شہادت صرف ایک صحافی کے قتل کی کہانی نہیں، بلکہ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ فلسطین جیسے خطرناک علاقوں میں بھی قلم بندوق سے زیادہ طاقتور ہتھیار بن سکتا ہے۔

ان کا نامزد ہونا اس امر کا عالمی اعتراف ہے کہ فلسطینی صحافی محض خبر دینے والے نہیں، بلکہ سچائی کے سپاہی ہیں جو اپنے کیمرے اور مائیک کے ساتھ موت کے سائے میں کھڑے ہو کر بھی حق کی گواہی دیتے ہیں۔اس ایوارڈ کے دیگر نامزد افراد
مارٹن بیرن (امریکا): آزاد صحافت کے اصولوں پر ثابت قدم مدیر،
گستاوو گوریٹی (پیرو): بدعنوانی اور طاقتور مافیا کے خلاف تحقیقات کرنے والے،
جمی لائی (ہانگ کانگ): اظہارِ رائے کی آزادی کے سب سے بڑے علمبردار،
وکٹوریہ روشچینا (یوکرین): جنگی حالات میں سچائی کی تلاش میں جاں قربان کرنے والی رپورٹر،
تسفالم والدیس (ایتھوپیا): حکومتی جبر کے خلاف بولنے والے آزادیِ صحافت کے علمبردار
یہ سب وہ نام ہیں جنہوں نے سچ بولنے کی قیمت اپنی زندگیوں اور آزادی سے ادا کی۔

24 اکتوبر کو ویانا (آسٹریا) میں ہونے والی تقریب میں یہ اعزاز صرف افراد کے لیے نہیں، بلکہ دنیا بھر کے اُن سب صحافیوں کے لیے خراجِ تحسین ہوگا جو ظلم، جنگ، اور پابندیوں کے باوجود سچ کی روشنی بجھنے نہیں دیتے۔








Discussion about this post