اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات نہ ہو سکی، جس کے بعد سہیل آفریدی، علیمہ خان اور علی بخاری چیمبر سے واپس روانہ ہو گئے۔میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ ’’ہماری شنوائی نہیں ہوئی، چیف جسٹس کی جانب سے پیغام ملا کہ آپ سے نہیں مل سکتا۔ اس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آج نہ قومی اسمبلی کا اجلاس ہوگا اور نہ ہی سینیٹ کا۔‘‘وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں مسلسل بند کی گئی ہیں۔ ’’میں آٹھ بار ملاقات کے لیے گیا، مگر ہر بار حکام نے اجازت نہیں دی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا، اور ملاقات نہ کروا کر سیاسی دشمنیوں اور دوریوں کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ’’ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے، اور عوامی مطالبات کو دبایا جا رہا ہے۔‘‘انہوں نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کا ذکر بھی کیا، اور کہا کہ ’’ہم بانی پی ٹی آئی کی خیریت اور حقوق کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔ یہاں ساری زندگی گزارنی پڑے تو گزار دیں گے، لیکن مطالبات کے لیے دھرنے اور احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘گورکھ پور ناکے پر جاری احتجاج کے دوران سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں ابھی تک بانی پی ٹی آئی کی خیریت کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا، اور ہم ہر ممکن کوشش کریں گے کہ عوام کے حقوق اور پارٹی کے رہنما کے ساتھ انصاف ہو۔‘‘







Discussion about this post