امیر جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر اور دیگر نے سندھ ہائی کورٹ میں ای چالان کے خلاف درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ کیمروں اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے خودکار نظام کے تحت جرمانے بھیجے جا رہے ہیں، اور یہ نظام گاڑی کے مالک کو غلط طور پر مجرم ٹھہرا رہا ہے چاہے وہ شخص خود گاڑی چلا رہا ہو یا نہ ہو۔ وکیل عثمان فاروق نے عدالت کو بتایا کہ سڑکوں کے بنیادی انفراسٹرکچر، گاڑیوں کی درست ملکیت کی رجسٹری، اور روڈ سائن بورڈز کے بغیر ای چالان کا نفاذ غیرقانونی ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جرمانوں کی رقم میں غیرمعمولی اضافہ، لائسنس کی معطلی اور شناختی دستاویزات بند کرنا قانون کے منافی اور امتیازی اقدامات ہیں۔ وکیل نے نشاندہی کی کہ ایکسائز کے ریکارڈ میں بہت سی گاڑیاں اوپن لیٹر پر حرکت کر رہی ہیں جبکہ ملکیت کی منتقلی دیر سے ہونے کی وجہ سے غلط افراد کے نام ریکارڈ پر موجود ہیں، جس کی وجہ سے بے گناہ شہریوں کو چالان بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر میں متعدد مقامات پر زیبرا کراسنگ یا رفتار کی حد کے سائن موجود نہیں، سڑکیں درہم برہم اور کئی جگہوں پر ترقیاتی کام کے باعث راستے محدود یا بدل جاتے ہیں، جبکہ بعض مقامات پر ٹریفک پولیس نے رانگ وے ٹریفک چلا کر معمول کو تبدیل کر رکھا ہے۔ وکیل نے کریم آباد انڈر پاس، جہانگیر روڈ اور نیو کراچی روڈ جیسی سڑکوں کی طویل عرصے سے ناقص حالت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں بھاری چالان لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہیں۔ درخواست میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے حوالے سے اب تک 3485 ای چالان جاری ہو چکے ہیں۔ اس بنیاد پر استدعا کی گئی ہے کہ انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ای چالان کے نظام کو غیرقانونی قرار دیا جائے اور بھاری جرمانوں کو شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک سمجھا جائے۔ عدالت اس درخواست پر سماعت کرے گی، اور اس فیصلے کا اثر شہر بھر میں ای چالان کے اطلاق اور ٹریفک انتظام پر اہم ہوگا۔







Discussion about this post