انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچز انڈیا سے منتقل کرنے کی بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی درخواست کو مسترد کر کے کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے مطابق منگل کو ہونے والی ایک ورچوئل میٹنگ میں آئی سی سی نے واضح الفاظ میں بنگلہ دیش کو آگاہ کیا کہ حفاظتی خدشات کے باوجود میچز کی میزبانی انڈیا ہی کرے گا۔ آئی سی سی کا مؤقف ہے کہ طے شدہ شیڈول میں کسی قسم کی تبدیلی ممکن نہیں، اور بنگلہ دیش کو ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے انڈیا جانا ہوگا، بصورت دیگر پوائنٹس کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ انہیں کسی قسم کا الٹی میٹم دیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش نے آئندہ ماہ شروع ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے اپنے میچز انڈیا سے سری لنکا منتقل کرنے کی باضابطہ درخواست کی تھی۔ اس درخواست کے پیچھے بورڈ کا مؤقف یہ تھا کہ موجودہ حالات میں کھلاڑیوں کی سکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہیں، اور یہ فیصلہ حکومتی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فیصلہ کیا ہے کہ قومی ٹیم موجودہ صورتحال میں انڈیا کا سفر نہیں کرے گی۔

بیان میں زور دیا گیا کہ کھلاڑیوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز نے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ٹیم سے فارغ کر دیا، اور اس فیصلے کی وجہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی سفارش کو قرار دیا گیا۔ اس اقدام نے دونوں ملکوں کے کرکٹ تعلقات پر مزید سوالات کھڑے کر دیے۔ دوسری جانب، بنگلہ دیش اور انڈیا کے سفارتی تعلقات بھی گزشتہ کچھ عرصے سے تناؤ کا شکار ہیں۔ سنہ 2024 کے اواخر میں ڈھاکہ میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اختلافات نے شدت اختیار کی، جو تاحال برقرار ہیں۔ شیخ حسینہ واجد کو انڈیا کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا اور وہ ملک چھوڑ کر انڈیا میں پناہ لینے پر مجبور ہوئیں۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں نوجوانوں اور کھیلوں کے مشیر آصف نذرل کا کہنا تھا کہ کسی بھی صورت میں بنگلہ دیش کرکٹ، اس کے کھلاڑیوں اور قومی وقار کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کے اس بیان نے واضح کر دیا کہ یہ معاملہ محض کرکٹ تک محدود نہیں بلکہ قومی خودداری اور سکیورٹی سے جڑا ہوا ہے۔ یوں ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل یہ تنازع نہ صرف کھیل بلکہ خطے کی سیاست اور سفارت کاری میں بھی نئی گونج پیدا کر رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔







Discussion about this post