کراچی کے علاقے ڈیفنس میں واقع ایک فلیٹ سے برآمد ہونے والی اداکارہ اور ماڈل حمیرا اصغر کی کئی ماہ پرانی لاش نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ پولیس اور تحقیقاتی ادارے اس پراسرار موت کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور ہر گزرنے والے دن کے ساتھ نئے انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔
لاش کی دریافت اور ابتدائی تحقیقات
8 جولائی کو اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے اداکارہ کی لاش اس وقت برآمد ہوئی جب فلیٹ مالک کی شکایت پر عدالت نے کرایہ دار کو بےدخل کرنے کا حکم دیا۔ عدالتی بیلف اور پولیس جب فلیٹ کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے تو بیڈروم سے متصل ایک کمرے میں لاش ملی، جو مکمل طور پر سڑ چکی تھی۔ ابتدائی طور پر لاش کو ایک ماہ پرانا سمجھا گیا، تاہم بعد ازاں پوسٹ مارٹم رپورٹ نے انکشاف کیا کہ موت کو آٹھ سے دس ماہ گزر چکے ہیں۔

پراسرار شواہد اور تفتیشی نکات
تفتیشی حکام کے مطابق:
-
فلیٹ کے واش روم کے ٹب سے کپڑے برآمد ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موت سے قبل اداکارہ نے کپڑے دھوئے تھے۔
-
جس کمرے میں لاش ملی، وہاں کی بالکونی کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔
-
فلیٹ کے مرکزی دروازے پر اندر سے ڈبل لاک لگا تھا، جو کسی خودساختہ تنہائی کی نشاندہی کرتا ہے۔
-
اداکارہ کے فلیٹ سے یوٹیلیٹی بلز اور کرائے کی مئی 2024 تک کی ادائیگی کی سلپس بھی برآمد ہوئیں۔
-
موت 7 اکتوبر 2024 کو واقع ہوئی، جب کہ پڑوسیوں نے فلیٹ سے بدبو دسمبر 2024 میں محسوس کی۔
دو شناختی کارڈز، بدلی گئی عمر
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ حمیرا اصغر دو شناختی کارڈز استعمال کر رہی تھیں۔ ایک میں ان کی اصل تاریخِ پیدائش 10 اکتوبر 1983 تھی، جب کہ دوسرے میں انہوں نے عمر کم کر کے 10 اکتوبر 1997 درج کی تھی۔ پولیس کے مطابق، اداکارہ نے شوبز کی دنیا میں دوسرا شناختی کارڈ استعمال کیا۔
آخری رابطے اور تنہائی
سماجی کارکن اور میزبان اقرار الحسن نے دعویٰ کیا ہے کہ اداکارہ نے موت سے کچھ دیر قبل 7 اکتوبر کو دس افراد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، جن میں ان کا بھائی بھی شامل تھا، مگر افسوس کہ کسی نے جواب نہ دیا۔
کیا یہ طبعی موت تھی، قتل یا خودکشی؟
پولیس نے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جو اس سوال کا جواب تلاش کر رہی ہے کہ حمیرا اصغر کی موت فطری تھی، خودکشی یا قتل؟فی الحال کیمیکل ایگزامینیشن اور میڈیکل رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے، جو اس پراسرار موت کی گتھی سلجھانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔







Discussion about this post