کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 کے ایک خاموش فلیٹ میں، ایک خاموش موت کئی ماہ سے بےآواز دفن تھی۔ ماڈل اور اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ملنے کے بعد شروع ہونے والی تحقیقات نے دل دہلا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق، اداکارہ کی لاش ممکنہ طور پر 6 ماہ پرانی ہے۔ فلیٹ سے ملنے والا کھانے پینے کا سامان 2024 کی ایکسپائری ڈیٹ کا ہے، اور فون ریکارڈز میں آخری پیغام اکتوبر 2024 کا ہے، جو ایک آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کا تھا۔ انکشاف ہوا کہ ان کے فلیٹ کی بجلی بھی طویل عرصے سے منقطع تھی۔ آخری بار وہ اپنے فلیٹ کے مالک سے بھی اسی سال رابطے میں آئی تھیں۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار جاری ہے، جس کے بعد قانونی کارروائی مکمل ہونے پر لاش کو سرد خانے منتقل کیا گیا۔ حمیرا اصغر کے گھر والے ان کی میت وصول کرنے آج لاہور سے کراچی پہنچیں گے۔

لاش کو قبول کرنے سے انکار — لیکن انسانیت نے آواز دی
اداکارہ کے اہل خانہ کی جانب سے لاش وصول نہ کرنے کے اعلان نے جہاں دل کو زخمی کیا، وہیں انسانیت نے اپنی طاقت دکھائی۔ شوبز انڈسٹری نے جس حمیرا کو کبھی اپنے خوابوں میں دیکھا، آج اس کی تدفین کے لیے آگے بڑھ کر ذمہ داری سنبھالنے کو تیار ہو گئی۔ سماجی کارکن مہر بانو سیٹھی نے سب سے پہلے تدفین کی ذمے داری لینے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد اداکارہ سونیا حسین نے ایک دل کو چھو لینے والا ویڈیو پیغام جاری کیا، جس میں وہ آبدیدہ ہو کر کہتی ہیں:
"یہ سن کر سکتے میں آ گئی ہوں کہ حمیرا کے گھر والے اُن کی لاش لینے نہیں آ رہے۔ کیا گناہ کیا تھا اُس لڑکی نے؟ اگر کوئی نہ آیا، تو میں ایک مسلمان اور انسان ہونے کے ناطے اُس کے کفن دفن کی ذمہ داری خود اٹھاؤں گی۔”
سونیا نے اس موقع پر سب کو یاد دلایا کہ رشتے ناتے، دوستیاں اور ہمسائیگی کبھی نظرانداز نہ کی جائیں کیونکہ کوئی شخص کب، کہاں، کس حال میں رخصت ہو جائے، یہ صرف خدا جانتا ہے۔اداکار یاسر حسین نے بھی سونیا کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا:
"اگر سونیا یہ فریضہ انجام دیتی ہیں تو اُنہیں مبارک ہو، ورنہ میں بھی حاضر ہوں۔ جس انڈسٹری نے اُسے پہچان دی، وہ آج بھی اُس کے ساتھ کھڑی ہے، چاہے اُس کے اپنے کنارہ کش ہو چکے ہوں۔”







Discussion about this post