ماڈل و اداکارہ حمیرہ اصغر کی پرسرار موت کے کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے اپنی ابتدائی رپورٹ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ کراچی کی عدالت میں جمع کراتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ حتمی فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے، جس کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
پولیس رپورٹ میں کیا کہا گیا؟
پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ:
-
مرنے والی خاتون کا پوسٹ مارٹم مکمل ہو چکا ہے
-
گھر والوں سے رابطہ کیا جا چکا ہے
-
حتمی فرانزک رپورٹ کے بعد ہی قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا
عدالت نے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ متوفیہ کے اہل خانہ سے باقاعدہ طور پر دریافت کریں کہ آیا وہ مقدمہ درج کروانا چاہتے ہیں یا نہیں۔
چونکا دینے والا انکشاف: "فون فروری 2025 تک استعمال ہوا”
دورانِ سماعت ایڈووکیٹ عبدالاحد نے عدالت کو بتایا کہ
"حمیرہ اصغر کی موت 7 اکتوبر کو ہوئی، لیکن ان کا فون فروری 2025 تک استعمال ہوتا رہا۔”
یہ دعویٰ کیس میں نئی جہت کا اشارہ دیتا ہے، اور ممکنہ طور پر پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ڈیجیٹل شواہد کے درمیان تضاد کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
عدالت کی ہدایات
عدالت نے اس معاملے پر مزید تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 16 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔
پس منظر:
-
8 جولائی 2025 کو کراچی کے علاقے ڈیفنس کے ایک فلیٹ سے حمیرہ اصغر کی سڑی ہوئی لاش ملی تھی
-
لاش فلیٹ خالی کرانے کے دوران دریافت ہوئی، جس کا حکم مالک مکان کی درخواست پر عدالت نے دیا تھا
-
ابتدائی طور پر لاش کو 1 ماہ پرانی سمجھا گیا، مگر بعد ازاں پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ لاش 8 سے 10 ماہ پرانی ہے
آئندہ کا لائحہ عمل:
-
فرانزک رپورٹ کا انتظار
-
اہل خانہ کا مؤقف
-
فون ڈیٹا اور ٹیکنیکل شواہد کی روشنی میں مزید تفتیش







Discussion about this post