کراچی میں ایک افسوسناک واقعے نے شوبز حلقوں اور عوام کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے، جہاں معروف اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ان کے فلیٹ سے ملی اور سب سے کربناک پہلو یہ ہے کہ ان کے اپنے گھر والوں نے کراچی آ کر بیٹی کی لاش وصول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی کے مطابق، پولیس نے مالک مکان سے اداکارہ کا نمبر حاصل کرکے سی ڈی آر (کال ڈیٹیل ریکارڈ) کے ذریعے خاندان سے رابطہ کیا۔ تاہم، والد اور بھائی کی جانب سے سرد مہری دیکھنے کو ملی۔ والد نے دوٹوک الفاظ میں کراچی آنے اور بیٹی کی میت وصول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیڑھ سے دو سال قبل حمیرا سے تمام تعلقات ختم کر چکے ہیں۔ ایس ایس پی نے والد کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن دوسری جانب سے خاموشی ہی جواب رہا۔ اس وقت پولیس لاش کو امانتاً اسپتال کے سرد خانے میں رکھے ہوئے ہے، اور اہلِ خانہ کی عدم دلچسپی کے باعث قانونی کارروائی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

اداکارہ کی تنہائی اور آخری دن
پڑوسیوں کے مطابق، حمیرا کو کافی عرصے سے آتے جاتے نہیں دیکھا گیا۔ وہ 2024 سے مالک مکان کو کرایہ بھی ادا نہیں کر رہی تھیں، جس پر ان کے خلاف عدالتی کارروائی بھی زیرِ سماعت تھی۔ حمیرا کے دو موبائل فونز پولیس کو مل چکے ہیں، جن کا ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی سی سی ٹی وی فوٹیج، قریبی رہائشیوں کے بیانات اور دیگر شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ موت کی وجوہات کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔
ابتدائی تحقیقات اور قانونی پہلو
پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور کیمیکل ایگزامینیشن رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اگر ان رپورٹس میں کسی مشکوک عنصر کی نشاندہی ہوئی، تو قتل یا سازش کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔ پولیس کی کوشش ہے کہ یہ مقدمہ اہل خانہ کی مدعیت میں درج ہو، لیکن اگر وہ انکار کریں تو پولیس خود مدعی بنے گی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، متوفیہ کے جسم کے مختلف اعضا کو فرانزک تجزیے کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہے، تاکہ کسی بھی قسم کی زہریلی یا نشہ آور اشیاء کے شواہد تلاش کیے جا سکیں۔ اگرچہ فی الحال یہ واقعہ قتل معلوم نہیں ہوتا، تاہم ہر پہلو سے تفتیش جاری ہے۔
حمیرا اصغر کی فنی زندگی
32 سالہ حمیرا اصغر نے ’احسان فراموش‘، ’گرو‘ اور دیگر کئی ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی فعال تھیں اور ان کے ہزاروں مداح ان کی زندگی سے جڑے لمحات کو فالو کرتے تھے۔ لیکن سکرین کی چمک کے پیچھے چھپی ایک خاموش تنہائی، خاندانی لاتعلقی اور مالی مسائل اب سب کے سامنے آ گئے ہیں۔







Discussion about this post