کراچی کے تاریخی اور دل دہلا دینے والے سانحے گل پلازہ فائر میں اب تک کی سب سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ کمیشن آف انکوائری کی سماعت کے دوران ایس ایس پی عارف عزیز نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا کہ آگ لگنے کی بنیادی وجہ دو معصوم بچوں کی شرارت تھی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق دو بچے عمارت کے کسی حصے میں آگ سے کھیل رہے تھے، جس سے شعلے بھڑک اٹھے اور چند لمحوں میں پورا تجارتی مرکز آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ پولیس نے ان دونوں بچوں کو طلب کیا اور ان کے بیانات قلمبند کیے، جن میں انہوں نے خود اس بات کا اعتراف کر لیا کہ وہ آگ سے کھیل رہے تھے۔ یہ اعتراف اس سانحے کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے کہ ایک چھوٹی سی غلطی نے کتنی بڑی تباہی مچا دی۔ کمیشن کے سربراہ نے جب سی سی ٹی وی فوٹیج کے بارے میں پوچھا تو ایس ایس پی نے بتایا کہ عمارت کی زیادہ تر ڈی وی آرز آگ میں جل کر راکھ ہو گئی تھیں۔ تاہم بیسمنٹ سے ایک ڈی وی آر برآمد ہوئی جس میں کچھ قیمتی ویڈیوز محفوظ تھیں۔ ان ویڈیوز میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ آگ لگنے کے فوراً بعد عمارت کے ایسوسی ایشن کے صدر اور کچھ دیگر افراد باہر نکل رہے تھے۔ یہ مناظر نہ صرف تفتیش کے لیے اہم ہیں بلکہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا عمارت کے انتظامیہ نے بروقت ایکشن لیا یا نہیں۔

ایس ایس پی عارف عزیز نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ آگ کی اصل وجہ بچوں کی جانب سے آگ سے کھیلنا تھا، جبکہ عمارت میں رکھا گیا انتہائی آتش گیر سامان، پلاسٹک، کپڑے، الیکٹرانکس اور دیگر اشیا نے شعلوں کو تیزی سے پھیلنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ نتیجتاً آگ نے چند منٹوں میں پورے عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور تاجروں کا اربوں روپے کا سامان خاکستر ہو گیا۔ گل پلازہ کراچی کے سب سے بڑے اور مصروف تجارتی مراکز میں شمار ہوتا تھا، جہاں ہزاروں لوگ روزانہ آمدورفت کرتے تھے۔ اس سانحے نے نہ صرف خاندانوں کو اجاڑ دیا بلکہ کئی نسلوں کی محنت اور سرمایہ بھی لٹا دیا۔ کمیشن کی تشکیل اسی لیے کی گئی تھی کہ حقیقت سامنے لائے جائے، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔ اب جب ابتدائی وجہ سامنے آ چکی ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا بچوں کی نگرانی کی کمی تھی؟ کیا عمارت میں فائر سیفٹی کے بنیادی انتظامات موجود تھے؟ کیا ایسوسی ایشن اور انتظامیہ نے اپنی ذمہ داری پوری کی؟ یہ سب سوالات اب بھی جواب طلب ہیں، اور امید ہے کہ کمیشن کی حتمی رپورٹ ان تمام پہلوؤں کو بے نقاب کر دے گی۔







Discussion about this post