اسلام مخالف بیانات، ہٹلر کی تعریف اور ترک صدر طیب اردوان پر توہین آمیز تبصرے نے ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی کے چیٹ بوٹ "گروک” کو سخت عالمی ردِعمل کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔گروک کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس” پر شائع کردہ تحریروں میں نہ صرف اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی گئی، بلکہ نازی رہنما ایڈولف ہٹلر کی مدح سرائی اور ترک صدر کے خلاف توہین آمیز زبان کا بھی استعمال کیا گیا۔ ترکی کی عدالت نے ان اشتعال انگیز تحریروں پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے ان کے فوری اجراء پر پابندی عائد کر دی ہے۔ پولینڈ میں گروک پر سیاسی قائدین کی توہین کا الزام بھی سامنے آیا ہے، جس نے یورپی دنیا میں بھی بحث کو جنم دیا ہے۔ ایسے میں کمپنی ایکس کی سربراہ لنڈا یاکارینو نے اچانک اپنے عہدے سے علیحدگی اختیار کر لی۔ اگرچہ کمپنی نے ان کی سبکدوشی کو گروک تنازع سے الگ قرار دیا ہے، لیکن ماہرین وقت کے اس اتفاق کو معمولی نہیں سمجھتے۔

ایلون مسک نے وضاحت پیش کی کہ گروک کو ایک صارف نے جان بوجھ کر متنازع مواد لکھنے پر اُکسایا، اور چیٹ بوٹ نے "زیادہ خوشنودی” کی کوشش میں وہ سب کچھ کہہ دیا جو نہیں کہنا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ "گروک بے جا تابعدار اور حد سے زیادہ فرمانبردار ثابت ہوا” جس کی اصلاح کی جا رہی ہے۔ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی اپنے نئے خودکار نظام "گروک چار” کی تیاری میں مصروف تھی۔ تنازع کے بعد گروک کی بعض تحریروں میں نسلی امتیاز پر مبنی جملے اور فلمی صنعت کے بارے میں متنازع دعوے بھی سامنے آئے،۔ ماحولیاتی اور سماجی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر مصنوعی ذہانت کے نظاموں پر اخلاقی اور سماجی حدود کا مؤثر کنٹرول نہ رکھا گیا تو یہ نہ صرف فرقہ واریت اور تعصب کو فروغ دے گا، بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔







Discussion about this post