کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرینبرگ نے ٹیسٹ کرکٹ کے تیزی سے ختم ہونے والے میچز پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے مقابلے نہ صرف کھیل کی روح کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ مالی اعتبار سے بھی بھاری خسارے کا باعث بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب انتظامیہ کو پچز کے کردار پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا تاکہ کھیل کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔ ٹوڈ گرینبرگ نے باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے پہلے ہی دن 20 وکٹیں گرنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ مختصر دورانیے کے ٹیسٹ میچز کاروباری نقطۂ نظر سے فائدہ مند ثابت نہیں ہوتے۔ اگرچہ اس طرح کے دن شائقین کے لیے سنسنی خیز ہو سکتے ہیں، تاہم ٹیسٹ کرکٹ کی اصل خوبصورتی اس کے طویل اور صبر آزما مزاج میں پوشیدہ ہے، جسے برقرار رکھنا بے حد ضروری ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ پرتھ میں دو روز میں ختم ہونے والے ٹیسٹ میچ کے باعث کرکٹ آسٹریلیا کو تقریباً پچاس لاکھ آسٹریلوی ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ گرینبرگ کے مطابق اگر میلبورن ٹیسٹ بھی توقع سے پہلے اختتام پذیر ہوا تو مالی خسارہ مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے، حالانکہ اس میچ کے پہلے دن ریکارڈ چورانوے ہزار سے زائد شائقین اسٹیڈیم میں موجود تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں عوامی دلچسپی اب بھی برقرار ہے۔ چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ پچز کی تیاری میں بیٹ اور بال کے درمیان بہتر توازن ہونا چاہیے تاکہ مقابلہ زیادہ دیر تک جاری رہے اور کھیل کا حسن برقرار رہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ماضی میں پچ کی تیاری میں مداخلت سے گریز کیا جاتا تھا، مگر بدلتے ہوئے حالات اور بڑھتے ہوئے تجارتی دباؤ کے پیش نظر اب اس معاملے پر گہری اور ذمہ دارانہ نظر رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے۔








Discussion about this post