انڈونیشیا نے بیرونِ ملک مقیم اور سابق شہریوں کے لیے ایک نیا اور اہم اقدام اٹھاتے ہوئے "گلوبل سٹیزن شپ آف انڈونیشیا” پروگرام شروع کر دیا ہے، اور اب درخواستیں جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ اس پروگرام کے ذریعے سابق انڈونیشیائی شہری اور ان کے خاندان کے افراد کو ملک میں غیر معینہ مدت تک رہنے اور کام کرنے کی اجازت دی جائے گی، جس کا مقصد بیرونِ ملک بسے انڈونیشیائی نژاد افراد کو دوبارہ اپنے وطن سے جوڑنا ہے۔ اگرچہ انڈونیشیا میں دوہری شہریت کی اجازت نہیں، لیکن حکومت نے اس پابندی کے متبادل کے طور پر ایک خصوصی رہائشی حیثیت متعارف کرائی ہے، تاکہ نژاد انڈونیشیائی غیر ملکی قانونی طور پر ملک میں بس سکیں اور روزگار حاصل کر سکیں۔ اطلاعات کے مطابق اس پروگرام کا باضابطہ آغاز 26 جنوری 2026 کو ہوگا، اور اب تک کم از کم پانچ درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔رہائشی اجازت ناموں کے ڈائریکٹر جنرل ایڈی ایکو پترانتو نے بتایا کہ موصولہ درخواستوں کی جانچ پڑتال جاری ہے تاکہ ہر درخواست گزار کی اہلیت کا درست تعین کیا جا سکے۔

اہلیت کے دائرہ کار میں سابق انڈونیشیائی شہری، ان کی اولاد، پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انڈونیشیائی شہریوں کے غیر ملکی شریکِ حیات اور ایسے بچے بھی درخواست دے سکتے ہیں جو ایک انڈونیشیائی اور ایک غیر ملکی والدین کے ہونہار ہوں۔ تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ سہولت ایسے افراد کو نہیں دی جائے گی جن کا تعلق ماضی میں انڈونیشیا کے حصوں سے علیحدگی پسند یا غیر قانونی سرگرمیوں سے رہا ہو۔ اسی طرح وہ درخواست گزار بھی مستحق نہیں ہوں گے جو کسی دوسرے ملک میں سرکاری ملازم، فوجی یا انٹیلی جنس اہلکار کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہوں۔






Discussion about this post