نیٹ فلیکس کی معروف سروائیول سیریز اسکوئڈ گیم سے شہرت پانے والے جنوبی کوریائی اداکار گونگ یو ایک جھوٹے ہراسانی کیس میں بالآخر عدالت سے سرخرو ہو گئے۔ جنوبی کوریا کی مقامی عدالت نے ان پر جھوٹے الزامات لگانے والی خاتون کو چھ ماہ قید کی دو سال کے لیے معطل سزا سناتے ہوئے مقدمہ نمٹا دیا۔ یہ فیصلہ ضلع دائجن کورٹ کی فوجداری عدالت نمبر 5 نے سنایا، جس کے مطابق خاتون کو معلوماتی نیٹ ورک کے غلط استعمال اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی پر سزا دی گئی۔
جھوٹے الزامات اور اداکار کا قانونی اقدام
عدالتی دستاویزات کے مطابق، مذکورہ خاتون نے جنوری 2020 میں ایک لائیو نشریات کے دوران گونگ یو پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ خاتون نے دعویٰ کیا کہ اداکار انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں، وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور انہیں باقاعدہ دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ اداکار نے ان الزامات کو بے بنیاد اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے خاتون کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کیا۔ پولیس تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہوا کہ نہ صرف گونگ یو کا خاتون سے کوئی ذاتی تعلق نہیں تھا بلکہ کبھی کوئی ہراسانی کا واقعہ بھی پیش نہیں آیا۔
عدالت کا فیصلہ: سنجیدہ الزامات، نرم سزا
عدالت نے قرار دیا کہ:
"ملزمہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات سراسر جھوٹے اور سنجیدہ نوعیت کے تھے، اور انہوں نے ایک طویل عرصے تک اداکار کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹی معلومات پھیلائیں۔”
فیصلے میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملزمہ ماضی میں بھی دو بار اسی نوعیت کے جھوٹے الزامات میں سزا پا چکی ہیں۔ تاہم اس بار انہوں نے نہ صرف اپنے جرم کا اعتراف کیا بلکہ ذہنی علاج کے لیے اسپتال سے رجوع کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا، جس کی بنیاد پر عدالت نے نسبتاً نرم سزا سنائی۔ اگر وہ آئندہ دو سال کے دوران کوئی ایسا جرم دوبارہ نہیں کرتیں، تو جیل جانے سے بچ جائیں گی، بصورتِ دیگر انہیں 6 ماہ قید کاٹنا ہوگی۔

یاد دہانی: ‘اسکوئڈ گیم’ کے ایک اور اداکار بھی نشانہ بنے
یہ پہلا موقع نہیں کہ اسکوئڈ گیم کے کسی اداکار کو ہراسانی کے الزام کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل مارچ 2024 میں عمر رسیدہ اداکار او یونگ سو (O Yeong-su) کو بھی جنسی ہراسانی کے ایک مقدمے میں 8 ماہ کی معطل سزا سنائی گئی تھی۔







Discussion about this post