ملک بھر میں سونے کی قیمت نے تاریخ کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں، اور فی تولہ 24 قیراط سونا 4 لاکھ 25 ہزار 178 روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ روز کے 4 لاکھ 16 ہزار 778 روپے سے کافی زیادہ ہے۔آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق، 10 گرام 24 قیراط سونے کی قیمت 7 ہزار 202 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 64 ہزار 521 روپے پر پہنچ گئی، جبکہ 22 قیراط 10 گرام سونا 3 لاکھ 34 ہزار 156 روپے تک جا پہنچا۔

عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور فی اونس سونا 3 ہزار 955 ڈالر سے بڑھ کر 4 ہزار 39 ڈالر تک جا پہنچا، جو ایک نمایاں تاریخی اضافہ ہے۔اسی طرح، فی تولہ چاندی 4 ہزار 984 روپے پر پہنچ گئی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 4 ہزار 272 روپے ہوگئی۔ عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت 48.80 ڈالر فی اونس ریکارڈ کی گئی۔

ایسوسی ایشن کے مطابق، موجودہ نرخ انٹربینک ایکسچینج ریٹ اور 999 فی 24 قیراط سونے کے معیار کی بنیاد پر مقرر کیے گئے ہیں، جو پاکستان کی تاریخ کی بلند ترین سطح کے ساتھ ساتھ عالمی مارکیٹ اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، سرمایہ کاروں نے عالمی معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سونے میں تاریخی پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ امریکی شرحِ سود میں ممکنہ کمی نے بھی اس رجحان کو تقویت دی ہے۔ اسپاٹ گولڈ بدھ کو صبح 8 بج کر 20 منٹ جی ایم ٹی تک 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,039.10 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا، جبکہ دسمبر کے امریکی گولڈ فیوچرز 4,061.80 ڈالر تک جا پہنچے۔ چاندی بھی سونے کی تیزی سے متاثر ہوئی اور 2 فیصد اضافے کے ساتھ 48.76 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔2025 کے آغاز سے اب تک اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں تقریباً 54 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ 2024 میں یہ 27 فیصد بڑھا تھا، جس کے باعث سونا 2025 کے بہترین کارکردگی دکھانے والے اثاثوں میں شامل ہو گیا، اور اس نے عالمی حصص بازار اور بٹ کوائن کو پیچھے چھوڑ دیا۔







Discussion about this post