گلگت بلتستان اسمبلی نے پیر اور منگل کی درمیانی شب اپنی آئینی مدت پوری کرتے ہوئے قانون سازی کے ایک اہم باب کا اختتام کردیا۔ آخری اجلاس اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ کی صدارت میں جی بی اسمبلی ہال میں منعقد ہوا، جہاں اراکین نے غیر معمولی سرگرمی دکھاتے ہوئے درجن بھر اہم بل کثرتِ رائے سے منظور کیے، جن میں ایک بل ایڈونچر ٹورزم کے مؤثر انتظام سے متعلق بھی شامل تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ دو قراردادیں بھی مکمل اتفاقِ رائے سے منظور کی گئیں۔ اسمبلی نے مجموعی طور پر 12 بل پاس کیے، جن میں جی بی ٹورزم ایڈونچر ٹورزم مینجمنٹ بل 2025 اور جی بی ٹوبیکو کنٹرول بل قابلِ ذکر ہیں۔ ایوان نے ریسکیو 1122 اور لوکل کونسل کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے سے متعلق قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی، جسے ملازمین کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ جی بی میں جمہوری سفر ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں تاخیر سے شروع ہوا، تاہم خطہ اب بھی ارتقائی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں منتخب اراکین نے اپنی بھرپور کوششوں سے عوامی مسائل کے حل کے لیے قانون سازی اور اقدامات کیے۔ ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے جی بی کے وزیر عبدالحمید نے اعتراف کیا کہ تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں کے مسائل انتہائی سنگین ہیں، اور علاقے کی حقیقی ترقی صرف سیاحت کے فروغ سے ہی ممکن ہے۔ پیپلز پارٹی جی بی کے صدر اور رکنِ اسمبلی ایڈووکیٹ امجد حسین نے کہا کہ اسمبلی کی پانچ سالہ مدت پوری ہونا ایک اہم سنگ میل ہے، اور اس عرصے میں ارکان نے قانون سازی اور عملی اقدامات کے ذریعے عوام کے اعتماد پر پورا اترنے کی کوشش کی۔یوں جی بی اسمبلی نے اپنی مدت کے آخری روز 12 اہم بل منظور کرتے ہوئے آئندہ منتخب ہونے والی اسمبلی کے لیے ایک واضح قانون سازی کا فریم ورک چھوڑ دیا۔

دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف )جو جی بی کونسل کے چیئرمین بھی ہیں) نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے آرٹیکل 48-اے(2) کے تحت ریٹائرڈ جسٹس یار محمد کو نگران وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان مقرر کر دیا ہے۔







Discussion about this post