امریکا میں ہونے والے ریاستی انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آ گئے ہیں، جن میں ڈیموکریٹک پارٹی نے نمایاں برتری حاصل کی ہے۔ ورجینیا اور نیو جرسی میں ڈیموکریٹس کی تاریخی فتوحات نے امریکی سیاست میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے۔ ورجینیا میں ڈیموکریٹس نے تاریخ رقم کر دی، جہاں ایبی گیل اسپین برگر پہلی خاتون گورنر منتخب ہو گئی ہیں۔ یہ نہ صرف ورجینیا بلکہ پورے ملک میں خواتین کی سیاسی شمولیت کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہوا ہے۔ نائب گورنر کے طور پر غزالہ ہاشمی کی کامیابی نے اس کامیابی کو مزید تاریخی بنا دیا . وہ ریاست کی پہلی بھارتی نژاد مسلم خاتون نائب گورنر بن گئی ہیں۔ غزالہ ہاشمی اس سے قبل بھی ورجینیا کی پہلی مسلم اور جنوبی ایشیائی نژاد خاتون سینیٹر بن کر تاریخ رقم کر چکی ہیں۔ ان کی حالیہ کامیابی امریکی سیاست میں تنوع اور نمائندگی کے بڑھتے رجحان کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔نیو جرسی میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی نے اہم کامیابی حاصل کی، جہاں میکی شیرل نے گورنر کا الیکشن جیت کر ری پبلکن امیدوار جیک چیٹریلی کو شکست دی۔ ان کی جیت نے ریاست میں ڈیموکریٹس کی پوزیشن مزید مضبوط کر دی ہے۔ اسی دوران، جرسی سٹی میں پاکستانی نژاد امیدوار مصعب علی بھی میئر کے عہدے کے لیے میدان میں ہیں۔

لاہور میں پیدا ہونے والے مصعب اپنے بچپن میں والدین کے ساتھ امریکا منتقل ہوئے تھے۔ 9/11 کے بعد انہیں اور ان کے خاندان کو تعصب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد انہوں نے سماجی خدمات اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ ان کی انتخابی مہم مقامی کمیونٹی میں خاصی پذیرائی حاصل کر رہی ہے۔ دوسری جانب، اٹلانٹا میں موجودہ میئر آندرے ڈکنز دوسری مدت کے لیے دوبارہ منتخب ہو گئے ہیں، جس سے ان کی مقبولیت اور پالیسیوں پر عوامی اعتماد کی تصدیق ہوتی ہے۔ امریکی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ ملک میں خواتین، اقلیتوں اور نئے چہروں کے لیے سیاسی دروازے پہلے سے کہیں زیادہ کھل چکے ہیں، اور یہ رجحان امریکی جمہوریت کے مستقبل کو مزید متنوع اور متحرک بنا رہا ہے۔







Discussion about this post