ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے واضح کیا ہے کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مئی تنازع کے دوران بھارت نے جنگ بندی کے لیے تیسرے ملک کی مداخلت کروائی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا دہشتگردی پر مبنی من گھڑت بیانیہ اور پاکستان کے خلاف جارحیت حقائق کو چھپا نہیں سکتا۔ بھارت خطے میں امن کے لیے مسلسل خطرہ رہا ہے، اس نے بیرونِ ملک ماورائے عدالت قتل کیے اور ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی۔ طاہر حسین اندرابی نے مزید کہا کہ کلبھوشن جیسے آپریٹوز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی گئی، مطلوب مجرموں کو بھارت نے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کیں، اور بھارت میں اقلیتوں کو بڑھتی ہوئی ہراسانی اور جبر کا سامنا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ہزاروں کشمیری سیاسی رہنما اور سول سوسائٹی کے ارکان قید میں ہیں۔ سینئر کشمیری رہنما شبیر شاہ کئی برسوں سے طویل قید کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ خاتون رہنما آسیہ اندرابی بھی طویل عرصے سے بھارتی حراست میں ہیں۔ دیگر کشمیری سیاسی رہنما بھی دہائیوں پر محیط قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، یاسین ملک کو جعلی مقدمے میں سزا دی گئی اور کشمیری صحافی عرفان مجید بھارتی حکام کی انتقامی کارروائیوں کا شکار ہیں۔ ترجمان نے ایران کے حوالے سے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بیرونی جارحیت اور دھمکیوں کی مخالفت کی ہے، ایران پر سابقہ پابندیوں کی مخالفت کی اور مستقبل میں بھی کرتا رہے گا۔ جوہری معاہدے سے متعلق پابندیوں کو غیر تعمیری قرار دیا گیا اور ایران کی اندرونی صورتحال اس کا داخلی معاملہ ہے، جس میں پاکستان کبھی مداخلت نہیں کرتا۔
انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ مضبوط اور کثیرالجہتی نوعیت کا ہے۔ کسی مخصوص دفاعی پلیٹ فارم یا قرض کے حوالے سے حتمی معاہدے کی اطلاع نہیں، اور کسی بھی ممکنہ دفاعی معاہدے کی تصدیق باضابطہ عمل کے بعد کی جائے گی۔ترجمان نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی تعداد بڑھانے کے کسی فیصلے کی معلومات نہیں، اور دفاعی منصوبوں پر قیاس آرائیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان متعدد دفاعی منصوبے زیرِ غور ہیں اور تعاون کا سلسلہ دوطرفہ فریم ورک کے تحت جاری ہے۔






Discussion about this post