تار
English
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے
No Result
View All Result
No Result
View All Result
تار

سندھ اور پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا خطرناک سلسلہ جاری

by ویب ڈیسک
ستمبر 20, 2025
سیلاب متاثرین کے لیے ایئر لفٹ ڈرون سروس کا آغاز
Share on FacebookShare on Twitter

سندھ کے ضلع نوشہروفیروز میں دریائے سندھ کی بپھری لہروں نے کچے کے دیہات کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ گاؤں اور کھیت پانی میں ڈوب چکے ہیں، فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور ہزاروں لوگ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ پرانی منجٹھ کے کچے میں واقع گاؤں شیر محمد کھوسو کو جانے والے تمام زمینی راستے منقطع ہو گئے ہیں۔ پانی جمع ہونے سے متاثرین ملیریا اور دیگر وبائی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ نوشہروفیروز کے کاشتکاروں نے بتایا کہ 2 ہزار ایکڑ سے زائد پر لیموں کی فصل میں کئی فٹ پانی جمع ہو گیا ہے۔ متاثرین نے سندھ حکومت سے فوری امدادی پیکج کا مطالبہ کیا ہے۔ گھوٹکی کے کئی دیہات میں بھی زمینی رابطہ منقطع ہے اور متاثرین کو شہر جانے کے لیے کشتی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ سیلابی پانی کی سطح آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے، مگر قادرپور، رائونتی اور آندل سندرانی کے کچے کے علاقوں میں پانی ابھی تک موجود ہے۔ نواب شاہ میں بھی دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اور ریسکیو ٹیمیں سیلاب میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔

پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کی سنگین صورتحال

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) پنجاب کی رپورٹ کے مطابق دریائے راوی، ستلج اور چناب میں شدید سیلاب کے نتیجے میں 127 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔ 4,700 سے زائد موضع جات اور تقریباً 47 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ شدید سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 319 ریلیف کیمپس اور 407 میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے ہیں، جبکہ 26 لاکھ سے زائد افراد اور 20 لاکھ 90 ہزار جانور محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ جلال پور پیر والا کے قریب موٹروے ایم-5 کا ایک اور حصہ ٹوٹ گیا، جس کی وجہ سے ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا جا  رہا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ لاکھوں افراد کیمپوں میں بے بسی کی تصویر بن گئے ہیں، اور 90 ہزار ایکڑ پر کھڑی فصلیں اور باغات تباہ ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں سبزیاں اور پھل مہنگے ہو گئے ہیں۔ ڈرون کیمروں سے لی گئی ویڈیوز میں صاف نظر آ رہا ہے کہ ہر طرف پانی ہی پانی ہے، گھروں کو جزیروں میں بدل دیا گیا ہے اور متاثرین گھٹنوں تک پانی میں گزرنے پر مجبور ہیں۔ خانیوال کی تحصیل کبیروالا میں سیلاب نے ریلوے لائن کو بری طرح متاثر کیا، جہاں گزشتہ 15 روز سے ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہے۔ ریسکیو اور ریلیف آپریشنز پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں، اور متاثرین کی مدد کے لیے حکومت اور مقامی ادارے دن رات کوشاں ہیں۔

Previous Post

ثنا یوسف قتل کیس، ملزم عمر حیات پر فردِ جرم عائد

Next Post

چمن بارڈر پر افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع

Next Post
غیرقانونی تارکین وطن کے لیے ڈیڈلائن کا آخری روز

چمن بارڈر پر افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا عمل دوبارہ شروع

Discussion about this post

تار نامہ

children

یتیم بچوں اور بیواؤں کے لیے ’وزیراعلیٰ پنجاب رحمت کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ

port

پاکستانی بندرگاہوں کی عارضی بندش سے متعلق زیرِ گردش نوٹیفکیشن جعلی ہے

ayat al khumani 2

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ کیوں مؤخر ہوئی ؟

currency note

نئے کرنسی نوٹ کیسے حاصل کریں؟

dog

پنجاب میں 2 سال کے دوران 4 لاکھ 36 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے واقعات

تار

  • ہمارے بارے میں
  • پرائیویسی پالیسی

No Result
View All Result
  • پاکستان
  • جہاں نامہ
  • صنف
  • ادب
  • اینٹرٹینمٹ
  • ویڈیوز
  • کھیل
  • کاروبار
  • صحافت
  • تجزیئے

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist