پنجاب کے مختلف اضلاع ایک بار پھر تباہ کن سیلابی ریلوں کی زد میں ہیں۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے دریائے چناب، راوی اور ستلج میں خطرناک حد تک بلند ہوتے پانی پر ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے، جب کہ حکومتِ پنجاب کے ریسکیو اور ریلیف آپریشن دن رات جاری ہیں۔ فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ خطرے کی گھنٹیاں بجا رہا ہے، جہاں گزشتہ شام 2 لاکھ 17 ہزار کیوسک سے زائد ریکارڈ کیا گیا۔ بلوکی بیراج اور جسر کے مقامات پر بھی پانی کے تیز بہاؤ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر غیر معمولی طغیانی دیکھی جا رہی ہے، جہاں پانی کا بہاؤ ڈھائی لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا۔ ہیڈ سلیمانکی اور ہیڈ اسلام بھی دباؤ برداشت کر رہے ہیں۔ مگر سب سے تشویشناک منظر دریائے چناب کا ہے، جہاں قادرآباد کے مقام پر سیلابی ریلا نو لاکھ کیوسک تک جا پہنچا۔ خانکی ہیڈ ورکس پر اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے جبکہ تریمو اور ہیڈ محمد والا کے علاقے خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔

ملتان میں ہنگامی فیصلہ
دریائے چناب کی بے قابو موجوں نے ملتان میں خطرے کی شدت بڑھا دی، جس کے پیشِ نظر ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر کنٹرولڈ شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ اب تک متاثرہ آبادی کا ساٹھ فیصد انخلا مکمل ہو چکا ہے اور باقی کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن تیزی سے جاری ہے۔ این ای او سی کے مطابق 31 اگست کو ہیڈ تریمو پر پانی کا بہاؤ 8 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے، جو جھنگ اور گرد و نواح کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ تین ستمبر تک یہ ریلا پنجند تک پہنچے گا جہاں سات لاکھ کیوسک کے قریب پانی گزرنے کا خدشہ ہے۔
ریسکیو اور ریلیف آپریشن
سیلابی ریلوں نے اطراف کے دیہاتوں اور کھڑی فصلوں کو نگل لیا، کئی گھروں کی چھتیں گر گئیں اور اب تک 11 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس کے باوجود ریسکیو ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پنجاب کے 30 اضلاع سے 45 ہزار سے زائد افراد اور ہزاروں مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ منڈی بہاؤالدین، ننکانہ صاحب، حافظ آباد، قصور، اوکاڑہ اور پاکپتن سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریسکیو 1122 نے 2 ہزار سے زائد افراد کو بحفاظت نکالا۔ سیلاب متاثرین کے لیے بنائے گئے ریلیف کیمپس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر خوراک، علاج اور دیگر سہولتوں کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔
حکومت کی اپیل اور اقدامات
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے دریائے راوی کے دورے کے موقع پر کہا:
"یہ تاریخی سیلابی ریلہ ہے، لیکن حکومت نے بروقت اقدامات سے ہزاروں قیمتی جانیں بچائیں۔ عوام سے اپیل ہے کہ خطرناک مقامات پر جانے سے گریز کریں۔”
ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مسلسل فیلڈ میں موجود رہیں اور انخلا کو جلد از جلد مکمل کریں۔
ایک نظر میں اعداد و شمار
-
پنجاب کے 30 اضلاع متاثر
-
12 لاکھ سے زائد شہری سیلاب کی لپیٹ میں
-
2 لاکھ 48 ہزار سے زیادہ افراد کا انخلا
-
1 لاکھ 48 ہزار مویشی محفوظ مقامات پر منتقل
-
694 ریلیف کیمپ اور 265 میڈیکل کیمپ فعال







Discussion about this post